Announcement

Collapse

Important Information

Assalamo Allaikum

Pegham is being relocated from it's current hosts to another host. This will disrupt services, until the new setup is ready.

The new setup will be a changed one: A new face and a new site, with forum as it is. So stay tuned and see the new site.

Admin
See more
See less

hadith Sahii Bukhri sa

Collapse
X
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • hadith Sahii Bukhri sa

    حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ جب سورج غروب ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: "کیا تمھیں معلوم ہے کہ یہ سورج کہاں جاتا ہے؟" میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول کو ہی خوب علم ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: "یہ سورج جا کر عرش کے نیچے سجدہ کرتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ سے اجازت مانگتا ہے تو اسے (دوبارہ مشرق سے طلوع ہونے کی) اجازت دی جاتی ہے۔ اور وہ دن قریب ہے جب یہ سجدہ کرے گا اور اس کا سجدہ قبول نہ ہو گا اور اجازت طلب کرے گا لیکن اسے اجازت نہ ملے گی بلکہ اسے کہا جائے گا: جہاں سے آئے ہو واپس چلے جاؤ تو وہ مغرب سے طلوع ہو گا۔ اسی لئے اللہ نے ارشاد فرمایا: اور سورج اپنے ٹھکانے کے لئے رواں دواں رہتا ہے، یہ نہایت غالب، خوب جاننے والے (اللہ) کا اندازہ ہے۔"
    (صحیح بخاری، کتاب بدءالخلق، باب صفۃ الشمس و القمر، حدیث 3199)

    :(

  • #2
    Re: hadith Sahii Bukhri sa

    very nice post...science say mutsadim hai magar man-na tu pary ga
    ہے الف و لیلہ سی زندگی درپیش
    سو جاگتی ہوئی ، اک شہر زاد ہے دل میں

    Comment


    • #3
      Re: hadith Sahii Bukhri sa

      Originally posted by Crime Master GoGo View Post
      very nice post...science say mutsadim hai magar man-na tu pary ga
      ma to nahii manta
      :(

      Comment


      • #4
        Re: hadith Sahii Bukhri sa

        Originally posted by Dr Faustus View Post
        ma to nahii manta
        kia nahi mantay :o
        اللھم صلی علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما صلیت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔
        اللھم بارک علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما بارکت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔

        Comment


        • #5
          Re: hadith Sahii Bukhri sa

          @ Anchal


          تو کیا یقین کروں؟ یہ کائناتی ماڈل دوسری صدی عیسوی میں پیٹالومی نے پیش کیا تھا جس کی رو سے زمین کائنات کا مرکزہے اور سورج اور دیگر اجرام فلکی اس کے گرد گرد ش کر رہے ہیں یہی نظریہ چرچ اور اسلام وغیرہ نے اخد کر لیا۔۔۱۵۴۳ میں کیتھولک پادری نکولس کوپرنکیس نے جرات مندی سے کام لیتے ہوئے اس نظرئے کا ابطال کیا بعد میں کیپلر ،گلکیلو اور نیوٹین نے ثابت کر دیا کےزمین ساکن نہیں اور نہ ہیں کائنات میں اس کا کوئی خصوصی مقام ہے
          اپ سائینس پہ تین حرف بھجیں جھٹلا دیں کا کائنات میں سو بلین یعنی دس پہ گیارہ صفر کہکشائیں ہیں اوردس بلین ٹریلن ستارے ۔۔اور اتنے عظیم اعداد و شمار سب فضول ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ سورج بمعہ سو بلین کہکشائوں اور دس بلین ٹریلن ستاروں کے ساتھ زمین کے گرد گھوم رہا ہے؟ اور زمین کے نیچے عرش پہ جا کے سجدہ کرتا ہے۔ اور اجازت طلب کرکے اگلے دن طلوع ہوتا ہے


          واسلام

          :(

          Comment


          • #6
            Re: hadith Sahii Bukhri sa

            Originally posted by Dr Faustus View Post
            @ Anchal


            تو کیا یقین کروں؟ یہ کائناتی ماڈل دوسری صدی عیسوی میں پیٹالومی نے پیش کیا تھا جس کی رو سے زمین کائنات کا مرکزہے اور سورج اور دیگر اجرام فلکی اس کے گرد گرد ش کر رہے ہیں یہی نظریہ چرچ اور اسلام وغیرہ نے اخد کر لیا۔۔۱۵۴۳ میں کیتھولک پادری نکولس کوپرنکیس نے جرات مندی سے کام لیتے ہوئے اس نظرئے کا ابطال کیا بعد میں کیپلر ،گلکیلو اور نیوٹین نے ثابت کر دیا کےزمین ساکن نہیں اور نہ ہیں کائنات میں اس کا کوئی خصوصی مقام ہے
            اپ سائینس پہ تین حرف بھجیں جھٹلا دیں کا کائنات میں سو بلین یعنی دس پہ گیارہ صفر کہکشائیں ہیں اوردس بلین ٹریلن ستارے ۔۔اور اتنے عظیم اعداد و شمار سب فضول ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ سورج بمعہ سو بلین کہکشائوں اور دس بلین ٹریلن ستاروں کے ساتھ زمین کے گرد گھوم رہا ہے؟ اور زمین کے نیچے عرش پہ جا کے سجدہ کرتا ہے۔ اور اجازت طلب کرکے اگلے دن طلوع ہوتا ہے


            واسلام

            suraj mashriq say nikal kaay maghrib main ghroob hota hia yeh to mantay hian na :--p
            اللھم صلی علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما صلیت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔
            اللھم بارک علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما بارکت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔

            Comment


            • #7
              Re: hadith Sahii Bukhri sa

              Originally posted by Aanchal View Post
              suraj mashriq say nikal kaay maghrib main ghroob hota hia yeh to mantay hian na :--p

              سورج کہیں سے نکلتا بلکہ زمین سورج کے گرد مغرب سے مشرق کی جانب گھومتی ہے اور ہمیں لگتا ہے جیسے سورج مشرق سے مغرب کی طرف جارہا ہے جیسے آپ ایک ٹرین میں مغرب سے مشرق کی جانب جارہے ہوتو آپ کو پیڑ پودے انسان مشرق سے مغرب کی جانب جاتے لگے گئے جبکہ یہ سب ساکت حالت میں ہوں

              ہے الف و لیلہ سی زندگی درپیش
              سو جاگتی ہوئی ، اک شہر زاد ہے دل میں

              Comment


              • #8
                Re: hadith Sahii Bukhri sa

                aeis hi bato k liye ham kehty hien k ye Nabi ki tarf ghalt mansoob hien ..


                magar ham ko hi kafir keh diya jata hai ...


                kher ...

                sooraj jab ... sajda kr raha hota hai .... tou


                wo sajda sirf us time hota hoga .. jab musalmano k haaan andehra ho......


                jis din yahan roshni hogyee aesy bhot sy sajdy nahi reh gy





                Comment


                • #9
                  Re: hadith Sahii Bukhri sa

                  Originally posted by Baniaz Khan View Post
                  aeis hi bato k liye ham kehty hien k ye Nabi ki tarf ghalt mansoob hien ..


                  magar ham ko hi kafir keh diya jata hai ...


                  kher ...

                  sooraj jab ... sajda kr raha hota hai .... tou


                  wo sajda sirf us time hota hoga .. jab musalmano k haaan andehra ho......


                  jis din yahan roshni hogyee aesy bhot sy sajdy nahi reh gy
                  mansob nahi hain sach hain kyon kay qurani ayat bhi soraj aur chand ko gardesh aur aik category mai rakhti hain
                  ہے الف و لیلہ سی زندگی درپیش
                  سو جاگتی ہوئی ، اک شہر زاد ہے دل میں

                  Comment


                  • #10
                    Re: hadith Sahii Bukhri sa

                    jo cheez in ka aqaid ka khilaf hu us ka bary ma kehty ya Zaief hai ya wo..momin ki pechan hi ya ka wo apna waqt sa hum asar hota liken humary aziz dost jismani torpa 21sadi ma liken zehani tor pa Ptolemy ka ahad ma mojod hai
                    :(

                    Comment


                    • #11
                      Re: hadith Sahii Bukhri sa

                      Originally posted by Crime Master GoGo View Post
                      mansob nahi hain sach hain kyon kay qurani ayat bhi soraj aur chand ko gardesh aur aik category mai rakhti hain
                      bs bhai yehi tou bat hai .. sach hony ka koi saboot nahi siwaye is bat k ... Bukhari sab ghalt ni hoskty .. aur in sab ki tasdeeq Nabi SAW ny khud krdi un k khwb mae a kr ..

                      aur jahan tak Qurani ayat ki bat hai tou ..

                      think about it sirf ap k liye ...


                      pehly ye batein ghari gyein hein phir in ki sachaee ko mayar bana kr Quran ka tarjuma kya gya ..

                      aur har tarjuma krny wala .. in hi bato ka paband raha hai ...





                      Comment


                      • #12
                        Re: hadith Sahii Bukhri sa

                        Originally posted by Baniaz Khan View Post
                        bs bhai yehi tou bat hai .. sach hony ka koi saboot nahi siwaye is bat k ... Bukhari sab ghalt ni hoskty .. aur in sab ki tasdeeq Nabi SAW ny khud krdi un k khwb mae a kr ..

                        aur jahan tak Qurani ayat ki bat hai tou ..

                        think about it sirf ap k liye ...


                        pehly ye batein ghari gyein hein phir in ki sachaee ko mayar bana kr Quran ka tarjuma kya gya ..

                        aur har tarjuma krny wala .. in hi bato ka paband raha hai ...


                        زمانے قدیم سے انسان صرف انہی سات سیاروں سے واقفیت رکھتا تھاا جو ان کو نظرآتے تھے، ان میں مشتری ،زہرہ،مریخ، جوپیٹر،سیٹرن ،چانداورسورج شامل تھے۔ ابتدائی نظریہ یہی تھا کہ زمین ساکن ہے اور یہ سب زمین کے گرد گردش کرتے ہیں جیساکہ عموماً نظر آتاہے۔چناچہ تقریباً 350 سال قبل مسیح میں یونان کے فلاسفر ارسطو نے یہی نظریہ پیش کیاتھا کہ زمین ساکن ہے اور سورج سمیت تمام سیارے اس کے گرد حرکت کرتے ہیں ۔ پھر سال قبل مسیح میں یونا ن کے ایک اور فلاسفر اور ہیئت دان فیثاغورث نے ارسطو کے نظریے کی مخالفت کرتے ہوئے یہ نظریہ پیش کیا کہ سورج ساکن ہے اور ہماری زمین اس کے گرد گھوم رہی ہے نیزہماری زمین کے علاوہ اوربھی بہت سے سیارے ہیں جو سورج کے گرد گھوم رہے ہیں۔ فیثا غورث ہی وہ پہلاشخص ہے کہ جس نے سورج کے ساکن ہونے کا نظریہ پیش کیا تھامگر یہ نظریہ زیادہ مقبول نہ ہوا اور لوگوں کے ذہنوں پر ارسطو کا نظریہ چھایارہا۔
                        سورة یٰس میں ارشاد باری تعالیٰ ہے

                        (لَاالشَّمْسُ یَنْبَغِیْ لَھَآ اَنْ تُدْرِکَ الْقَمَرَ وَلَا الَّیْلُ سَابِقُ النَّھَارِ ط وَکُلّ فِیْ فَلَکٍ یَّسْبَحُوْنَ)

                        '' نہ تو سورج سے ہو سکتاہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے اور نہ ہی رات دن پر سبقت لے جاسکتی ہے۔سب اپنے اپنے مدار پر تیزی سے رواں دواں ہیں'' (36:40


                        (وَ ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَ الَّیْلَ وَالنَّھَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ط کُلّ فِیْ فَلَکٍ یَّسْبَحُوْنَ)
                        '' اوروہ اللہ ہی ہے جس نے رات اوردن بنائے اورسورج اورچاند کو پیداکیا۔ سب ایک ایک فلک میں تیررہے ہیں''


                        کیا آپ ثابت کرسکتے ہیں سورج تیر رہا ہے ناکہ پوری گلیگسی گھوم رہی ہے یہ ایسا ہے ایک انسان کرسی پر بیٹھا ہو اور زمین گھوم رہی ہو۔ اگر ثابت کرنے والے اس طرح ثابت کریں تو کشش ثقل کسی چیز کو ساکت نہیں رہنے دیتی ایک ساکن پتھر بھی گردش میں ہے دوسرا فلک الگ الگ کیسے ہوسکتے آسمان تو ایک ہی ہے؟ تیسرا مدار سورج کا ہے یا گلیکسی کا ؟ نیز قرآن دینی اور
                        مذہبی کتاب ہے کوئی سائنسی کتاب نہیں۔ وگرنہ آجکل کے لاکھوں علماء دین ہر سال سائنس میں نوبل انعام لے رہے ہوتے
                        سب سے سنجیدہ بات قرآن اگر واقعی علماء کی نظر میں مستند سائنسی کتاب ہے تو زمین کی گردش کا ذکر کیوں نہیں اس کے فلک اور محور کا تزکرہ کیوں نہیں کیا خدا بتانا بھول گئے یا سائنس سے مقابلے کے لئے یہ کتاب نہیں ؟

                        ہے الف و لیلہ سی زندگی درپیش
                        سو جاگتی ہوئی ، اک شہر زاد ہے دل میں

                        Comment


                        • #13
                          Re: hadith Sahii Bukhri sa

                          Originally posted by Crime Master GoGo View Post


                          زمانے قدیم سے انسان صرف انہی سات سیاروں سے واقفیت رکھتا تھاا جو ان کو نظرآتے تھے، ان میں مشتری ،زہرہ،مریخ، جوپیٹر،سیٹرن ،چانداورسورج شامل تھے۔ ابتدائی نظریہ یہی تھا کہ زمین ساکن ہے اور یہ سب زمین کے گرد گردش کرتے ہیں جیساکہ عموماً نظر آتاہے۔چناچہ تقریباً 350 سال قبل مسیح میں یونان کے فلاسفر ارسطو نے یہی نظریہ پیش کیاتھا کہ زمین ساکن ہے اور سورج سمیت تمام سیارے اس کے گرد حرکت کرتے ہیں ۔ پھر سال قبل مسیح میں یونا ن کے ایک اور فلاسفر اور ہیئت دان فیثاغورث نے ارسطو کے نظریے کی مخالفت کرتے ہوئے یہ نظریہ پیش کیا کہ سورج ساکن ہے اور ہماری زمین اس کے گرد گھوم رہی ہے نیزہماری زمین کے علاوہ اوربھی بہت سے سیارے ہیں جو سورج کے گرد گھوم رہے ہیں۔ فیثا غورث ہی وہ پہلاشخص ہے کہ جس نے سورج کے ساکن ہونے کا نظریہ پیش کیا تھامگر یہ نظریہ زیادہ مقبول نہ ہوا اور لوگوں کے ذہنوں پر ارسطو کا نظریہ چھایارہا۔
                          سورة یٰس میں ارشاد باری تعالیٰ ہے

                          (لَاالشَّمْسُ یَنْبَغِیْ لَھَآ اَنْ تُدْرِکَ الْقَمَرَ وَلَا الَّیْلُ سَابِقُ النَّھَارِ ط وَکُلّ فِیْ فَلَکٍ یَّسْبَحُوْنَ)

                          '' نہ تو سورج سے ہو سکتاہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے اور نہ ہی رات دن پر سبقت لے جاسکتی ہے۔سب اپنے اپنے مدار پر تیزی سے رواں دواں ہیں'' (36:40


                          (وَ ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَ الَّیْلَ وَالنَّھَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ط کُلّ فِیْ فَلَکٍ یَّسْبَحُوْنَ)
                          '' اوروہ اللہ ہی ہے جس نے رات اوردن بنائے اورسورج اورچاند کو پیداکیا۔ سب ایک ایک فلک میں تیررہے ہیں''


                          کیا آپ ثابت کرسکتے ہیں سورج تیر رہا ہے ناکہ پوری گلیگسی گھوم رہی ہے یہ ایسا ہے ایک انسان کرسی پر بیٹھا ہو اور زمین گھوم رہی ہو۔ اگر ثابت کرنے والے اس طرح ثابت کریں تو کشش ثقل کسی چیز کو ساکت نہیں رہنے دیتی ایک ساکن پتھر بھی گردش میں ہے دوسرا فلک الگ الگ کیسے ہوسکتے آسمان تو ایک ہی ہے؟ تیسرا مدار سورج کا ہے یا گلیکسی کا ؟ نیز قرآن دینی اور
                          مذہبی کتاب ہے کوئی سائنسی کتاب نہیں۔ وگرنہ آجکل کے لاکھوں علماء دین ہر سال سائنس میں نوبل انعام لے رہے ہوتے
                          سب سے سنجیدہ بات قرآن اگر واقعی علماء کی نظر میں مستند سائنسی کتاب ہے تو زمین کی گردش کا ذکر کیوں نہیں اس کے فلک اور محور کا تزکرہ کیوں نہیں کیا خدا بتانا بھول گئے یا سائنس سے مقابلے کے لئے یہ کتاب نہیں ؟


                          nahi mae kuch bhi sabit nahi kr skta ..

                          even k mae is time ye bhi sabit nahi kr skta ... k ...

                          Quran mustand hai ..





                          Comment


                          • #14
                            Re: hadith Sahii Bukhri sa

                            قرآن کہیں یہ دعوٰی نہیں کرتا کہ یہ سائنس کی کتاب ہے یا یہ انسان کو سائنس سکھانے آیا ہے

                            یہ انسان کی کتاب ہے انسان کو اپنی زندگی کس طرح بسر کرنی چاہئے اُس سے آگاہ کرنے کی کتاب ہے

                            ہوا یوں کہ کچھ باتیں کچھ چیزیں جو قران اور بدلتے زمانے کے مطابق درست ثابت ہونے لگیں تو علما وقت نے اپنے دین کو سچا ثابت کرنے کے لئے قرآن اور سائنس کی مماثلت کو استعمال کرنا شروع کر دیا

                            جہاں تک بات رہا آپ کے متراجم کا تو جناب جب تک آپ عربی کے فصیح و بلیغ لغت کو نہیں سمجھیں گے جب تک آپ کسی ترجمہ کی اپنی زبان میں تشریح نہ ہی کریں تو بہتر ہے

                            ورنہ نیم حکیم خطرہ جاں والی بات ہوگی

                            آپ ارسطو اور فیثا غورث کی باتیں تو یاد رکھتے ہیں تو یہ بھی یاد رکھیں کہ جب کسی کے تصور میں بھی نہیں تھا کہ کائنات وسیع سے وسیع ترین ہوتی جا رہی ہے کائنات پہلے اکٹھی ایک جگہ تھی زمین سے باہر کس طرح نکلاجاسکتا ہے تب ایک ریگستانی علاقے میں رہنے والے ان پڑھ شخص نے کہا کہ کائنات کو وسعت دی جارہی ہے،کائنات پہلے یک جان تھی زمین سے باہر نکلنا ممکن ہے ۔


                            پلیز اللہ جی کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے سطحی الفاظ استعمال نہ کیا کریں

                            :star1:

                            Comment


                            • #15
                              Re: hadith Sahii Bukhri sa

                              ” ایک دفعہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو ذر سے پوچھا :” جانتے ہو کہ سورج غروب ہونے کے بعد کہا ں جاتاہے ؟” سیدنا ابو ذر کہنے لگے :” اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”: سورج غروب ہونے پر اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے سجدہ ریز ہوتا ہے اور دوسرے دن طلوع ہونے کا اذن مانگتا ہے تو اسے اذن دے دیا جاتا ہے پھر ایک دن ایسا آئے گا کہ اس سے کہا جائے گا کہ جدھرسے آیا ہے ادھر ہی لوٹ جا۔پھر وہ مغرب سے طلوع ہو گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت پڑھی ”۔(6)
                              مولانا عبدالرحمان کیلانی لکھتے ہیں کہ اس حدیث سے دو باتیں معلوم ہوئیں۔ ایک یہ کہ سورج اور اسی طرح دوسرے سیاروں کی گردش محض کشش ثقل اور مرکز گریز قوت کا نتیجہ نہیں بلکہ اجرام فلکی اور ان کے نظام پر اللہ حکیم وخبیرکا زبردست کنٹرول ہے کہ ان میں نہ تو تصاد م و تزاحم ہو تا ہے اورنہ ہی ان کی مقررہ گردش میں کمی بیشی ہوتی ہے اور یہ سب اجرام اللہ کے حکم کے تحت گردش کر رہے ہیں دوسرے یہ کہ قیامت سے پہلے ایک وقت آنے والا ہے جب سورج مغرب سے طلوع ہو گا اس کے بعد نظام کائنات بگڑ جائے گا۔آج کا مغرب زدہ طالب علم سورج کے طلوع وغروب ہونے اور عرش کے نیچے جاکر دوبارہ طلوع ہونے کی اجازت مانگنے کا مذاق اڑاتا ہے اورکہتاہے کہ سورج تو اپنی جگہ پر قائم ہے اور ہمیں جو طلوع وغروب ہوتا نظر آتاہے تو یہ محض زمین کی محوری گردش کی وجہ سے ہے حالانکہ اللہ کا عرش اتنا بڑا ہے کہ ایک سورج کی کیا بات ہے کائنات کی ایک ایک چیز اس کے عرش کے تلے ہے اورجن وانس کے سوا ہر چیز اس کے ہا ں سجدہ ریز یا اللہ کی طرف سے سپرد کردہ خدمت سر انجام دینے میں لگی ہوئی ہے۔(7)
                              ڈاکٹر سید سعیدعابدی اسی حدیث کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ”عصر جدید کے بعض مفسرین نے عرش الہی کے نیچے سورج کے سجدہ کرنے اور اللہ تعالیٰ سے اجازت لینے کی اس خبر نبوی کا انکار کیاہے ،ان کا دعویٰ ہے کہ علم فلک کے مطابق سورج کی رفتارمیں کوئی وقفہ نہیںہوتا جبکہ سجدہ کرنا توقف کا تقاضا کرتاہے ۔یہ حدیث حضرت ابو ذر سے متعدد سندوں سے مروی ہے اور ہر سند میں امام بخاری اورامام مسلم اور حضرت ابوذر کے درمیان جتنے راوی آئے ہیں وہ سب ثقات کی اعلی صفات سے موصوف ہیں توکیا صرف اس وجہ سے اس حدیث کا انکا رقرین عقل ہے کہ عرش الہی کے نیچے سورج کے سجدہ کرنے کی بات ہماری عقل کی رسائی سے باہر ہے اورکیا سورج کا سجدہ کرنا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ہماری طرح باقاعدہ وضو کرتاہے ،پھر کھڑا ہوتاہے اور پھر ”اللہ اکبر ”کہہ کر سجدہ میں جاتاہے یا اس کے جس فعل کو سجدہ سے تعبیر کیا گیا ہے وہ لمحوں میں وقوع پذیر ہوجاتاہے ،کیا قرآن پاک کی متعد د آیتوں میں کائنات کی ہر شی ٔ کے اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرنے کی خبر نہیں دی گئی ؟(الرعد:15،النحل :40، الحج : 18)تو کیاہماری عقل اس سجدے کی حقیقت کا ادراک رکھتی ہے
                              :star1:

                              Comment

                              Working...
                              X