Announcement

Collapse

Important Information

Assalamo Allaikum

Pegham is being relocated from it's current hosts to another host. This will disrupt services, until the new setup is ready.

The new setup will be a changed one: A new face and a new site, with forum as it is. So stay tuned and see the new site.

Admin
See more
See less

sirf Hadith Mubaraka

Collapse
X
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • sirf Hadith Mubaraka






    yeh thread mera life activity kay leye hai





    حدیث نمبرایک (1)

    1۔ امیر المومنین حضرت ابو حفص عمر بن خطاب بن نفیل بن عبد العزی بن ریاح بن عبد اللہ بن قرط بن رزاح بن عدی بن کعب بن لوی بن غالب قریشی عدوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ''اعمال کا دارو مدار صرف نیتوں پر ہے، ہر شخص کو اس کی نیت کے مطابق بدلہ ملے گا، پس جس شخص کی ہجرت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہو گی، تو اس کی ہجرت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی خاطر ہوگی اور جس نے حصولِ دنیا یا کسی عورت سے نکاح کی غرض سے ہجرت کی تو اس کی ہجرت انہی مقاصد کے لیے ہوگی جن کی خاطر اس نے ہجرت کی۔''

    توثیق الحدیث:اخرجہ البخاری (91۔ فتح)، مسلم ( 1907)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔



  • #2
    Re: sirf Hadith Mubaraka


    حدیث نمبر دو (2)

    2۔ ام المومنین ام عبد اللہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''ایک لشکر خانہ کعبہ پر لشکر کشی کرے گا، پس جب وہ بیدار(1) (کسی چٹیل میدان) میں پہنچے گا تو ان کے اول وآخر سب کو زمین میں دھنسا دیا جا ئے گا۔'' حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ''میں نے کہا: اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) ! ان کے اول وآخر سب کو کیسے دھنسا دیا جائے گا جب کہ ان میں بازار والے بھی ہوں گے اور کچھ ایسے بھی ہوں گے جوان میں سے نہیں ہوں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: '' ان کے اول وآخر سب کو دھنسا دیا جائے گا، پھر (روز قیامت) انہیں انکی نیتوں کے مطابق اٹھایا جائے گا۔''

    (متفق علیہ۔ یہ الفاظ بخاری کے ہیں)

    Comment


    • #3
      Re: sirf Hadith Mubaraka



      حدیث نمبر تین (3)

      حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں لیکن جہاد اور نیت باقی ہے۔ اور جب تمہیں دشمن کے ساتھ قتال کرنے کے لیے نکلنے کے لیے کہا جائے تو پھر نکل کھڑے ہو۔''
      (متفق علیہ)

      اس کے معنی ہیں کہ فتح مکہ کے بعد مکہ سے ہجرت کی ضرورت باقی نہیں رہی کیونکہ وہ دارالاسلام بن گیا ہے

      توثیق الحدیث :اخرجہ البخاری (2268۔ فتح)، ومسلم (1864) واللفظ لہ، و فی الباب عن ابن عباس عند البخاری (36۔ فتح)
      ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

      Comment


      • #4
        Re: sirf Hadith Mubaraka


        حدیث نمبر چار (4)

        حضرت ابو عبداللہ جابر بن عبد اللہ انصاری بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں شریک تھے تو آپ نے فرمایا: ''یقینا مدینہ میں کچھ ایسے لوگ ہیں کہ تم نے جتنا بھی سفر کیا اور جو بھی وادی طے کی وہ تمہارے ساتھ رہے ہیں، انہیں تو مرض نے روکے رکھا۔'' اور ایک روایت میں ہے۔ ''وہ تمہا رے ساتھ اجر میں شریک رہے ہیں۔ ''

        (مسلم)

        اور بخاری میں روایت اس طرح ہے کہ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوۃ تبوک سے لوٹے تو آپ نے فرمایا:'' یقینا کچھ لوگ ہمارے پیچھے مدینے میں رہے کہ ہم جس گھاٹی یا وادی سے گزرے(اجر و ثواب کے لحاظ سے) وہ ہمارے ساتھ تھے، انہیں توعذر نے روکے رکھا۔''

        توثیق الحدیث: حدیث جابر اخرجہ مسلم (1911)، و حدیث انس
        اخرجہ البخاری ( 466۔47۔ فتح)

        Comment


        • #5
          Re: sirf Hadith Mubaraka


          حدیث نمبر پانچ (5)

          حضرت ابو یزید معن بن یزید بن اخنس (یہ معن، ان کے والد یزید اور دادا اخنس تینوں صحابی ہیں) بیان کرتے ہیں کہ میرے والد یزید نے کچھ دینار صدقہ کرنے کے لیے نکالے اور انہیں مسجد میں کسی آدمی کے پاس رکھ آئے ( تاکہ وہ کسی مستحق کو دے دے ) پس میں مسجد میں آیا اور انہیں گھر لے آیا، پس انھوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں نے تو یہ ارادہ نہیں کیا تھا۔ (کہ یہ دینار تم لے آؤ ) پس میں انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے آیا اور آپ کو اس مسئلے کے بارے میں بتایا تو آپ نے فرمایا: اے یزید! تجھے تیری نیت کا ثواب مل گیا اور اے معن ! جو تو نے لے لیا وہ تیرا ہے۔''

          (بخاری)
          توثیق الحدیث : اخرجہ البخاری ( 2913۔ فتح) ۔
          ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

          Comment


          • #6
            Re: sirf Hadith Mubaraka


            حدیث نمبر چھ (6)

            6۔ ابو اسحٰق سعد بن ابی وقاص مالک بن اہیب بن عبد مناف بن زہرہ بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لؤی القرشی الزہری، جو ان دس صحابہ میں سے ایک ہیں جنہیں دنیا میں جنت کی خوشخبری دے دی گئی، وہ بیان کرتے ہیں کہ حجۃ الوداع کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے اور مجھے اس وقت شدید درد تھا۔ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! آپ دیکھ رہے ہیں کہ مجھے کس قدر شدید درد ہے اور میں مالدار آدمی ہوں لیکن میری وارث صرف میری ایک ہی بیٹی ہے، کیا میں اپنے مال کا دو تہائی حصہ صدقہ کردوں؟ آپ نے فرمایا: ''نہیں'' میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آدھا مال؟ آپ نے فرمایا: ''نہیں'' پھر میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک تہائی؟ آپ نے فرمایا: ''تیسرا حصہ صدقہ کرلو لیکن تیسرا حصہ بھی کثیر یا بڑا ہے کیونکہ اگر تم اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑ کر جاؤ تو یہ اس سے بہتر ہے کہ تم انہیں محتاج چھوڑ کر جاؤ کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔ کیونکہ تم اللہ تعالیٰ کی رضا کیلیئے جو بھی خرچ کرو گے تو اس پر تمہیں اجر ملے گا، حتی کہ تم جو لقمہ اپنی بیوی کے منہ میں رکھو گے (اس پر بھی ثواب ملے گا)''۔ راوی کہتے ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! کیا میں اپنے ساتھیوں کے (مکے سے) چلے جانے کے بعد پیچھے (مکہ میں) چھوڑ دیا جاؤں گا۔ (میں ہجرت نہیں کروں گا)؟ آپ نے فرمایا: ''پیچھے چھوڑ دیے جانے کی صورت میں تم اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر جو بھی عمل کرو گے اس سے تمہارے درجات بلند ہوں گے۔ نیز ممکن ہے کہ تمہیں پیچھے رہنے کی مہلت مل جائے اور کچھ لوگ تم سے فائدہ حاصل کر لیں دوسرے لوگوں (کافروں) کو تم سے نقصان پہنچے۔ اے اللہ! میرے صحابہ کی ہجرت کو پورا فرما اور انہیں انکی ایڑیوں پر نہ لوٹا لیکن قابل رحم سعد بن خولہ (یہ سعد بن ابی وقاص کے علاوہ ہیں)"۔ ان کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رحمت کی دعا فرماتے تھے۔ اس لیے کہ وہ مکہ مکرمہ میں فوت ہوئے تھے۔

            (متفق علیہ )
            توثیق الحدیث :اخرجہ البخاری ( 1653۔ فتح) ومسلم (1628)
            ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

            Comment


            • #7
              Re: sirf Hadith Mubaraka



              حدیث نمبر سات ( 7)

              7۔ حضرت ابوہریرہ عبدالرحمن بن صخر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا: ''اللہ تعالیٰ تمہار ے جسموں اور تمہاری صورتوں کو نہیں دیکھتا وہ تو تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے۔ ''(مسلم)

              توثیق الحدیث :اخرجہ مسلم ( 2564) (33)

              Comment


              • #8
                Re: sirf Hadith Mubaraka

                ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔

                حدیث نمبر آٹھ (8)

                8۔ حضرت ابو موسیٰ عبد اللہ بن قیس اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص شجاعت و بہادری کی خاطر، ایک (خاندانی) حمیت کی خاطر، ایک ریا کاری کی خاطر لڑتا ہے تو ان میں سے اللہ تعالیٰ کی خاطر کون لڑتا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اس لیے لڑتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ بلند ہو وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں لڑتا ہے۔''

                (متفق علیہ )
                توثیق الحدیث :اخرجہ البخاری ( 2221۔ فتح )، و مسلم (1904) واللفظ لہ
                ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

                Comment


                • #9
                  Re: sirf Hadith Mubaraka


                  حدیث نمبر نو (9)

                  9۔ حضرت ابو بکرہ نفیع بن حارث ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جب دو مسلمان اپنی اپنی تلواریں سونت کر مد مقابل آجاتے ہیں تو پھر یہ قاتل اور مقتول دونوں جہنمی ہیں'' میں (راوی) نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ تو قاتل ہے (اس لیے جہنمی ہے) مقتول جہنمی کیوں ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا: ''اس لیے کہ وہ بھی اپنے سا تھی (مد مقابل) کے قتل کا حریص تھا۔''

                  (متفق علیہ)
                  توثیق الحدیث :اخرجہ البخاری (851۔فتح ) واللفظ لہ، ومسلم (2888)

                  Comment


                  • #10
                    Re: sirf Hadith Mubaraka

                    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔

                    حدیث نمبر دس (10)

                    10۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''آدمی کی جماعت کے ساتھ پڑھی ہوئی نماز اسکی گھر یا بازار میں پڑھی ہو ئی نماز سے بیس سے کچھ زائد درجے فضیلت رکھتی ہے، اس لیے کہ جب کوئی شخص وضو کرتا ہے، اور اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر نماز کے لیے مسجد میں آتا ہے اور نماز ہی اسے مسجد کی طرف لے جاتی ہے تو پھر وہ جو بھی قدم اٹھاتا ہے تو ہر قدم کے بد لے اس کا ایک در جہ بلند اور ایک گناہ معاف ہوجاتا ہے ۔ حتٰی کہ وہ مسجد میں داخل ہوجاتا ہے۔ پس جب مسجد میں داخل ہو جاتا ہے تو وہ حالت نماز میں شمار ہوتا ہے۔ جب تک نماز اسے وہاں روکے رکھتی ہے اور فرشتے تمہارے ایک پر رحمت کی دعا کرتے رہتے ہیں جب تک وہ اس جگہ بیٹھا رہے جہاں اس نے نماز پڑھی تھی۔ فرشتے کہتے ہیں: اے اللہ! اس پر رحم فرما، اے اللہ! اسے بخش دے، اے اللہ! اس پر رجوع فرما (اور یہ دعائیں جاری رہتی ہیں) جب تک وہ کسی کو تکلیف نہ پہنچائے، جب تک وہ بے وضو نہ ہو'' ۔

                    (متفق علیہ) یہ الفاظ صحیح مسلم کے ہیں
                    توثیق الحدیث:اخرجہ البخاری (5641۔ فتح)، و مسلم (649،272)

                    Comment


                    • #11
                      Re: sirf Hadith Mubaraka

                      <br style="color: rgb(0, 0, 0); font-family: 'Urdu Naskh AsiaType', Tahoma, Verdana, arial, 'ms sans serif', 'Microsoft Sans Serif'; font-size: 16px; background-color: rgb(236, 249, 255);"><span style="color: rgb(0, 0, 0); font-family: 'Urdu Naskh AsiaType', Tahoma, Verdana, arial, 'ms sans serif', 'Microsoft Sans Serif'; font-size: 16px; background-color: rgb(236, 249, 255);">حدیث نمبر تیرہ</span><br style="color: rgb(0, 0, 0); font-family: 'Urdu Naskh AsiaType', Tahoma, Verdana, arial, 'ms sans serif', 'Microsoft Sans Serif'; font-size: 16px; background-color: rgb(236, 249, 255);"><br style="color: rgb(0, 0, 0); font-family: 'Urdu Naskh AsiaType', Tahoma, Verdana, arial, 'ms sans serif', 'Microsoft Sans Serif'; font-size: 16px; background-color: rgb(236, 249, 255);"><span style="color: rgb(0, 0, 0); font-family: 'Urdu Naskh AsiaType', Tahoma, Verdana, arial, 'ms sans serif', 'Microsoft Sans Serif'; font-size: 16px; background-color: rgb(236, 249, 255);">حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ''اللہ تعالیٰ کی قسم! میں دن میں ستر سے زائد مرتبہ اللہ تعالیٰ سے گناہوں کی بخشش مانگتا اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں ''</span><br style="color: rgb(0, 0, 0); font-family: 'Urdu Naskh AsiaType', Tahoma, Verdana, arial, 'ms sans serif', 'Microsoft Sans Serif'; font-size: 16px; background-color: rgb(236, 249, 255);"><br style="color: rgb(0, 0, 0); font-family: 'Urdu Naskh AsiaType', Tahoma, Verdana, arial, 'ms sans serif', 'Microsoft Sans Serif'; font-size: 16px; background-color: rgb(236, 249, 255);"><span style="color: rgb(0, 0, 0); font-family: 'Urdu Naskh AsiaType', Tahoma, Verdana, arial, 'ms sans serif', 'Microsoft Sans Serif'; font-size: 16px; background-color: rgb(236, 249, 255);">(بخاری)&nbsp;</span><br style="color: rgb(0, 0, 0); font-family: 'Urdu Naskh AsiaType', Tahoma, Verdana, arial, 'ms sans serif', 'Microsoft Sans Serif'; font-size: 16px; background-color: rgb(236, 249, 255);"><span style="color: rgb(0, 0, 0); font-family: 'Urdu Naskh AsiaType', Tahoma, Verdana, arial, 'ms sans serif', 'Microsoft Sans Serif'; font-size: 16px; background-color: rgb(236, 249, 255);">توثیق الحدیث:اخرجہ البخاری (10111۔ فتح)۔</span>

                      Comment


                      • #12
                        Re: sirf Hadith Mubaraka

                        حدیث نمبر تیرہ

                        حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ''اللہ تعالیٰ کی قسم! میں دن میں ستر سے زائد مرتبہ اللہ تعالیٰ سے گناہوں کی بخشش مانگتا اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں ''

                        (بخاری)
                        توثیق الحدیث:اخرجہ البخاری (10111۔ فتح)۔

                        Comment


                        • #13
                          Re: sirf Hadith Mubaraka

                          14: حضرت اغر بن یسار مزنی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ''اے لوگو! اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ کرو اور اس سے بخشش طلب کرو۔ کیونکہ میں ایک دن میں سو مرتبہ توبہ کرتا ہوں ۔''

                          (مسلم)
                          توثیق الحدیث:اخرجہ مسلم (2702) (42) دون قولہ: (واستغفروہ) وبزیاہ (اِلیہ) بعد (فی الیوم)

                          Comment


                          • #14
                            Re: sirf Hadith Mubaraka

                            15۔ "حضرت ابو حمزہ انس بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے کہیں زیادہ خوش ہوتا ہے جس نے کسی جنگل میں اپنا اونٹ گم کردیا ہواور پھر اس نے اسے پالیا ہو۔''

                            (متفق علیہ)

                            اور مسلم کی ایک روایت کے الفاظ اس طرح ہیں :''اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے جب وہ اس کی طرف توبہ کرتا ہے، اس آدمی سے بھی زیادہ خوش ہو تا ہے جو کسی جنگل میں اپنی سواری پر سوار ہو کہ اچانک وہ سواری اس سے چھوٹ جائے اور اس پر اس کے کھانے پینے کا سامان ہو، وہ اس سے مایوس ہو کر کسی درخت کے سائے تلے آکرلیٹ جائے جبکہ وہ اپنی سواری سے (مکمل طور پر) مایوس ہوچکا ہو کہ اتنے میں اچانک سواری اس کے سامنے آکھڑی ہواور وہ اس کی مہار تھام کر خوشی کی شدت میں کہہ دے: "اے اللہ! تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں "۔ شدتِ فرحت کی وجہ سے اس سے غلطی ہوجائے۔''

                            (مسلم)
                            توثیق الحدیث:اخرجہ البخاری (10211۔فتح) ،و مسلم (2747) (8)۔ والروایہ الثانیہ عند مسلم (2747) (7)۔
                            ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔

                            Comment


                            • #15
                              Re: sirf Hadith Mubaraka

                              حدیث نمبر سترہ

                              17: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو شخص سورج کے مغرب سے طلوع ہونے سے پہلے توبہ کرلے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمالے گا۔''

                              (مسلم)
                              توثیق الحدیث اخرجہ مسلم (2703)۔

                              Comment

                              Working...
                              X