Announcement

Collapse

Important Information

Assalamo Allaikum

Pegham is being relocated from it's current hosts to another host. This will disrupt services, until the new setup is ready.

The new setup will be a changed one: A new face and a new site, with forum as it is. So stay tuned and see the new site.

Admin
See more
See less

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں

Collapse
X
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں


    حدیث نمبر 58
    حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''انبیاء علیہم السلام میں سے ایک نبی نے جہاد کرنے کا ارادہ کیا تو انھوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ وہ شخص میرے ساتھ جہاد پر نہ جائے جس نے کسی عورت سے نئی نئی شادی کی ہو اور وہ اس سے جماع کرنا چاہتا ہو لیکن ابھی اس نے کیا نہ ہو، اور وہ شخص بھی میرے ساتھ نہ جائے جس نے گھر بنایا ہو اور ابھی اس کی چھت نہ ڈالی ہو اور وہ شخص بھی میرے ساتھ نہ جائے جس نے بکریاں یا اونٹنیاں خریدی ہوں وہ ان کے بچے جننے کا منتظر ہو۔ پس اس پیغمبر نے جہاد کے لیے سفر شروع کیا، تو وہ بستی کے قریب نماز عصر کے وقت، یا اس کے قریب پہنچے تو سورج سے مخاطب ہو کر کہا: تو بھی مامور ہے اور میں بھی مامور ہوں، اے اللہ! اسے ہمارے لیے روک لے! پس اسے روک لیا گیا، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں فتح نصیب فرمائی۔ پس اس نبی نے غنیمتیں جمع کیں تو آگ آئی تاکہ انہیں کھالے لیکن اس نے انہیں نہ کھایا۔ پس انھوں نے فرمایا: "یقیناً تم میں خیانت ہے۔ لہٰذا تم میں سے ہر قبیلے کا ایک ایک آدمی آئے اور میری بیعت کرے۔ چنانچہ ایک آدمی کا ہاتھ ان کے ہاتھ سے چمٹ گیا۔ پس انھوں نے کہا: تمہارے قبیلے میں خیانت ہے، تمہارے قبیلے کا ہر شخص میری بیعت کرے گا (یعنی میر ے ساتھ ہاتھ ملائے گا) پس دو یا تین آدمیوں کا ہاتھ ان کے ہاتھ سے چمٹ گیا، فرمایا: تم میں خیانت ہے۔ چنانچہ وہ گائے کے سر جیسا سونے کا ایک سر لائے۔ اسے لاکر رکھ دیا۔، آگ آئی اور اسے کھاگئی۔ آپ نے فرمایا: ''ہم سے پہلے کسی قوم کے لیے غنیمتیں حلال نہیں تھیں ۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے ہماری کمزوری اور عاجزی کو دیکھا تو اسے ہمارے لیے حلال کردیا۔''
    (متفق علیہ)
    توثیق الحدیث اخرجہ البخاری (2206۔فتح) 'ومسلم (ٔ1747)
Working...
X