Announcement

Collapse

Important Information

Assalamo Allaikum

Pegham is being relocated from it's current hosts to another host. This will disrupt services, until the new setup is ready.

The new setup will be a changed one: A new face and a new site, with forum as it is. So stay tuned and see the new site.

Admin
See more
See less

کھانے کے درمیان اوربعد میں پانی پینا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز عمل

Collapse
X
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • کھانے کے درمیان اوربعد میں پانی پینا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز عمل



    کھانے کے درمیان اوربعد میں پانی پینا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز عمل



    عن أبي هريرة قال خرج رسول الله صلی الله عليه وسلم ذات يوم أو ليلة فإذا هو بأبي بکر وعمر فقال ما أخرجکما من بيوتکما هذه الساعة قالا الجوع يا رسول الله قال وأنا والذي نفسي بيده لأخرجني الذي أخرجکما قوموا فقاموا معه فأتی رجلا من الأنصار فإذا هو ليس في بيته فلما رأته المرأة قالت مرحبا وأهلا فقال لها رسول الله صلی الله عليه وسلم أين فلان قالت ذهب يستعذب لنا من الما إذ جا الأنصاري فنظر إلی رسول الله صلی الله عليه وسلم وصاحبيه ثم قال الحمد لله ما أحد اليوم أکرم أضيافا مني قال فانطلق فجاهم بعذق فيه بسر وتمر ورطب فقال کلوا من هذه وأخذ المدية فقال له رسول الله صلی الله عليه وسلم إياک والحلوب فذبح لهم فأکلوا من الشاة ومن ذلک العذق وشربوا فلما أن شبعوا ورووا قال رسول الله صلی الله عليه وسلم لأبي بکر وعمر والذي نفسي بيده لتسألن عن هذا النعيم يوم القيامة أخرجکم من بيوتکم الجوع ثم لم ترجعوا حتی أصابکم هذا النعيم

    سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ ایک دن یا ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے سیدنا ابوبکر اورسیدنا عمر رضی اللہ عنہما سے بھی ملاقات ہوگئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں حضرات سے فرمایا اس وقت تمہارا اپنے گھروں سے نکلنے کا سبب کیا ہے ان دونوں حضرات نے عرض کیا بھوک اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں بھی اسی وجہ سے نکلا ہوں جس وجہ سے تم دونوں نکلے ہوئے ہو اٹھو کھڑے ہوجاؤ دونوں حضرات کھڑے ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری کے گھر تشریف لائے کہ وہ انصاری اپنے گھر میں نہیں ہے انصاری کی بیوی نے دیکھا تو مرحبا اور خوش آمدید کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس انصاری کی بیوی سے فرمایا فلاں کہاں ہے اس نے عرض کیا وہ ہمارے لئے میٹھا پانی لینے گیا ہے اسی دروان انصاری بھی آگئے تو اس انصاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کی طرف دیکھا اور پھر کہنے لگا اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ آج میرے مہمانوں سے زیادہ کسی کے مہمان معزز نہیں اور پھر چلے اور کھجوروں کا ایک خوشہ لے کر آئے جس میں کچی اور پکی اور خشک اور تازہ کھجوریں تھیں اور عرض کیا کہ ان میں سے کھائیں اور انہوں نے چھری پکڑی تو رسول اللہ نے ان سے فرمایا دودھ والی بکری ذبح نہ کرنا پھر انہوں نے ایک بکری ذبح کی ان سب نے اس بکری کا گوشت کھایا اور کھجوریں کھائیں اور پانی پیا اور جب کھا پی کر سیراب ہوگئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم سے قیامت کے دن ان نعمتوں کے بارے میں ضرور پوچھا جائے گا تمہیں اپنے گھروں سے بھوک نکال کر لائی اور پھر تم واپس نہیں لوٹے یہاں تک کہ یہ نعمت تمہیں مل گئی۔

    صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 816


    عن سهل بن سعد قال دعا أبو أسيد الساعدي رسول الله صلی الله عليه وسلم في عرسه فکانت امرأته يومئذ خادمهم وهي العروس قال سهل تدرون ما سقت رسول الله صلی الله عليه وسلم أنقعت له تمرات من الليل في تور فلما أکل سقته إياه

    سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدناابواسید ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی شادی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی سیدنا ابواسید کی بیوی ہی اس دن کام کر رہی تھی اور دلہن بھی وہی تھی سیدنا سہل کہنے لگے کہ تم جانتے ہو کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا پلایا تھا رات کو اس نے ایک بڑے پیالہ میں کچھ کھجور ریں بھگو دی تھیں تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے سے فارغ ہوئے تو اس نے وہی بھگوئی ہوئی کھجوریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پلا دیں۔
    صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 736

    ما ملأَ آدميٌّ وعاءً شرًّا من بطنٍ حسْبُ الآدميِّ لقيماتٌ يُقِمنَ صلبَهُ فإن غلبتِ الآدميَّ نفسُهُ فثُلُثٌ للطَّعامِ وثلثٌ للشَّرابِ وثلثٌ للنَّفَسِ
    الراوي: المقدام بن معد يكرب الكندي المحدث:الألباني - المصدر: صحيح ابن ماجه - الصفحة أو الرقم: 2720


    خلاصة حكم المحدث: صحيح

    ( آدمی کا بھرا ہوا پیٹ اس کے مقابلہ میں بہت برا ہے جواپنی کمرسیدھی کرنے اورقوت کی بحالی کے لیے چند لقمے لیتا ہے ، اگر وہ ضرور ہی بھرنا چاہتا ہے توپھر وہ تین حصے کرے ایک توکھانے کے لیے اوردوسرا پینے کے لیے اورتیسرا سانس لینے کےلیے )
    سنن ترمذی حدیث نمبر ( 1381 ) سنن ابن ماحہ حدیث نمبر ( 3349 ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے السلسلۃ الصحیحۃ حدیث نمبر ( 2265 ) اسے صحیح قرار دیا ہے ۔
    واللہ تعالٰی اعلم

  • #2
    Re: کھانے کے درمیان اوربعد میں پانی پینا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز عمل

    subhanAllah

    Comment

    Working...
    X