Announcement

Collapse

Important Information

Assalamo Allaikum

Pegham is being relocated from it's current hosts to another host. This will disrupt services, until the new setup is ready.

The new setup will be a changed one: A new face and a new site, with forum as it is. So stay tuned and see the new site.

Admin
See more
See less

~*Hadith Of The Day*~(DAILY UPDATE)

Collapse
This is a sticky topic.
X
X
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَمَرَهُمْ أَمَرَهُمْ مِنَ الأَعْمَالِ بِمَا يُطِيقُونَ قَالُوا إِنَّا لَسْنَا كَهَيْئَتِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ غَفَرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ‏.‏ فَيَغْضَبُ حَتَّى يُعْرَفَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ ثُمَّ يَقُولُ ‏"‏ إِنَّ أَتْقَاكُمْ وَأَعْلَمَكُمْ بِاللَّهِ أَنَا ‏"‏‏.
    حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم لوگوں کو ہمیشہ ان کاموں کا حکم فرماتے جو ان کی بساط کے اندر ہوتے۔ لوگ عرض گزارہوئے کہ یا رسول اللہ! ہم آپ جیسے تو نہیں ہیں کیونکہ آپ کی خاطر تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے پچھلے اور اگلے گناہ معاف فرمادیے ہیں۔ آپ ناراض ہوئے کہ پرنور چہرے پر ناراضگی نمایاں تھی، پھر فرمارہے تھے کہ میں تم میں سے زیادہ خدا ترس اور اللہ کا زیادہ علم رکھنے والا ہوں۔

    Comment






    • Sahih Bukhari
      قَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِاللَّهِ ‏وَأَنَّ الْمَعْرِفَةَ فِعْلُ الْقَلْبِ لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏وَلَكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ‏}‏‏.
      نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ارشاد کہ مجھے اللہ تعالیٰ کا تمہاری نسبت زیادہ علم ہے اور معرفتِ دل کا فعل ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔ بلکہ تمہیں ان چیزوں پر پکڑے گا جو تمہارے دلون نے کمائیں۔

      Comment




      • ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
        " طاقتور اور قوى مومن اللہ كے ہاں كمزور اور ضعيف مومن سے بہتر ہے، اور ہر ايك ميں خير ہے، آپ اس چيز كى حرص ركھيں جو آپ كو فائدہ دے، اور اللہ تعالى سے مدد مانگو اور عاجز نہ ہو جاؤ، اور اگر آپ كو كچھ ( تكليف ) پہنچ جائے تو يہ نہ كہے كہ اگر ميں يہ كر ليتا تو يہ ہو جاتا، اور اگر يہ كر ليتا تو يہ ہو جاتا، ليكن يہ كہو كہ اللہ تعالى كى قدرت، اور اللہ نے جو چاہا كر ديا، كيونكہ اگر ( لو ) شيطان كا كام كھول ديتا ہے "
        صحيح مسلم حديث نمبر ( 2664
        اللھم صلی علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما صلیت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔
        اللھم بارک علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما بارکت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔

        Comment




        • امام مسلم رحمہ اللہ نے جابر بن عبد اللہ رضى اللہ تعالى عنہما سے روايت كيا ہے وہ بيان كرتے ہيں كہ:

          " ہم نے حديبيہ ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے ساتھ ايك اونٹ اور ايك گائے سات سات افراد كى جانب سے ذبح كى تھى "

          صحيح مسلم حديث نمبر ( 1318 ).
          اللھم صلی علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما صلیت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔
          اللھم بارک علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما بارکت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔

          Comment




          • حدیثِ قدسی میں رسول صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا"کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:ابن آدم کا ہرعمل اسی کیلئے ہے ،مگر روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اسکا بدلہ دونگا...،،(بخاری :1894 ، مسلم :1151)
            اللھم صلی علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما صلیت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔
            اللھم بارک علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما بارکت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔

            Comment



            • ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا ، کہا ہم سے فلیح نے بیان کیا ( دوسری سند ) اور مجھ سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا ، کہا مجھ سے میرے باپ ( فلیح ) نے بیان کیا ، کہا ہلال بن علی نے ، انھوں نے عطاء بن یسار سے نقل کیا ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ ایک بار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں بیٹھے ہوئے ان سے باتیں کر رہے تھے ۔ اتنے میں ایک دیہاتی آپ کے پاس آیا اور پوچھنے لگا کہ قیامت کب آئے گی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی گفتگو میں مصروف رہے ۔ بعض لوگ ( جو مجلس میں تھے ) کہنے لگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیہاتی کی بات سنی لیکن پسند نہیں کی اور بعض کہنے لگے کہ نہیں بلکہ آپ نے اس کی بات سنی ہی نہیں ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی باتیں پوری کر چکے تو میں سمجھتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا وہ قیامت کے بارے میں پوچھنے والا کہاں گیا اس ( دیہاتی ) نے کہا ( حضور ) میں موجود ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب امانت ( ایمانداری دنیا سے ) اٹھ جائے تو قیامت قائم ہونے کا انتظار کر ۔ اس نے کہا ایمانداری اٹھنے کا کیا مطلب ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب ( حکومت کے کاروبار ) نالائق لوگوں کو سونپ دئیے جائیں تو قیامت کا انتظار کر ۔
              حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، قَالَ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، ح وَحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، حَدَّثَنِي هِلاَلُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ بَيْنَمَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي مَجْلِسٍ يُحَدِّثُ الْقَوْمَ جَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ مَتَى السَّاعَةُ فَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُحَدِّثُ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ سَمِعَ مَا قَالَ، فَكَرِهَ مَا قَالَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ بَلْ لَمْ يَسْمَعْ، حَتَّى إِذَا قَضَى حَدِيثَهُ قَالَ ‏"‏ أَيْنَ ـ أُرَاهُ ـ السَّائِلُ عَنِ السَّاعَةِ ‏"‏‏.‏ قَالَ هَا أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِذَا ضُيِّعَتِ الأَمَانَةُ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ ‏"‏‏.‏ قَالَ كَيْفَ إِضَاعَتُهَا قَالَ ‏"‏ إِذَا وُسِّدَ الأَمْرُ إِلَى غَيْرِ أَهْلِهِ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ ‏"‏‏.‏
              Reference : Sahih al-Bukhari 59
              In-book reference : Book 3, Hadith 1
              USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 3, Hadith 56
              (deprecated numbering scheme)
              اللھم صلی علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما صلیت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔
              اللھم بارک علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما بارکت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔

              Comment



              • ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا ، انھوں نے عبداللہ بن دینار سے ، انھوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا درختوں میں ایک درخت ایسا ہے کہ اس کے پتے نہیں جھڑتے اور مسلمان کی مثال اسی درخت کی سی ہے ۔ بتاؤ وہ کون سا درخت ہے ؟ یہ سن کر لوگوں کا خیال جنگل کے درختوں کی طرف دوڑا ۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا میرے دل میں آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے ۔ مگر میں اپنی ( کم سنی کی ) شرم سے نہ بولا ۔ آخر صحابہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے پوچھا کہ وہ کون سا درخت ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ کھجور کا درخت ہے ۔
                حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً لاَ يَسْقُطُ وَرَقُهَا، وَإِنَّهَا مَثَلُ الْمُسْلِمِ، فَحَدِّثُونِي مَا هِيَ ‏"‏‏.‏ فَوَقَعَ النَّاسُ فِي شَجَرِ الْبَوَادِي‏.‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ، فَاسْتَحْيَيْتُ ثُمَّ قَالُوا حَدِّثْنَا مَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ هِيَ النَّخْلَةُ ‏"‏‏.‏
                Reference : Sahih al-Bukhari 61
                In-book reference : Book 3, Hadith 3
                اللھم صلی علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما صلیت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔
                اللھم بارک علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما بارکت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔

                Comment




                • ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ان سے مالک نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ کے واسطے سے ذکر کیا ، بیشک ابومرہ مولیٰ عقیل بن ابی طالب نے انہیں ابوواقد اللیثی سے خبر دی کہ ( ایک مرتبہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد بیٹھے ہوئے تھے کہ تین آدمی وہاں آئے ( ان میں سے ) دو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پہنچ گئے اور ایک واپس چلا گیا ۔ ( راوی کہتے ہیں کہ ) پھر وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہو گئے ۔ اس کے بعد ان میں سے ایک نے ( جب ) مجلس میں ( ایک جگہ کچھ ) گنجائش دیکھی ، تو وہاں بیٹھ گیا اور دوسرا اہل مجلس کے پیچھے بیٹھ گیا اور تیسرا جو تھا وہ لوٹ گیا ۔ تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( اپنی گفتگو سے ) فارغ ہوئے ( تو صحابہ رضی اللہ عنہم سے ) فرمایا کہ کیا میں تمہیں تین آدمیوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ تو ( سنو ) ان میں سے ایک نے اللہ سے پناہ چاہی اللہ نے اسے پناہ دی اور دوسرے کو شرم آئی تو اللہ بھی اس سے شرمایا ( کہ اسے بھی بخش دیا ) اور تیسرے شخص نے منہ موڑا ، تو اللہ نے ( بھی ) اس سے منہ موڑ لیا ۔
                  حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ، مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ وَالنَّاسُ مَعَهُ، إِذْ أَقْبَلَ ثَلاَثَةُ نَفَرٍ، فَأَقْبَلَ اثْنَانِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَذَهَبَ وَاحِدٌ، قَالَ فَوَقَفَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَرَأَى فُرْجَةً فِي الْحَلْقَةِ فَجَلَسَ فِيهَا، وَأَمَّا الآخَرُ فَجَلَسَ خَلْفَهُمْ، وَأَمَّا الثَّالِثُ فَأَدْبَرَ ذَاهِبًا، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَلاَ أُخْبِرُكُمْ عَنِ النَّفَرِ الثَّلاَثَةِ أَمَّا أَحَدُهُمْ فَأَوَى إِلَى اللَّهِ، فَآوَاهُ اللَّهُ، وَأَمَّا الآخَرُ فَاسْتَحْيَا، فَاسْتَحْيَا اللَّهُ مِنْهُ، وَأَمَّا الآخَرُ فَأَعْرَضَ، فَأَعْرَضَ اللَّهُ عَنْهُ ‏"‏‏.‏
                  Reference : Sahih al-Bukhari 66
                  In-book reference : Book 3, Hadith 8
                  اللھم صلی علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما صلیت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔
                  اللھم بارک علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما بارکت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔

                  Comment


                  • جزاک اللہ خیر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

                    Comment


                    • حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ‏‏‏‏‏‏ٍ‏‏‏‏،‏‏‏‏ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ‏‏‏‏‏‏ٍ‏‏‏‏،‏‏‏‏ عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عِيسَى الطَّحَّانِ‏‏‏‏‏‏ٍ‏‏‏‏،‏‏‏‏ عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ‏‏‏‏‏‏ٍ‏‏‏‏،‏‏‏‏ عَنْ أَبِيهِ‏‏‏‏‏‏ٍ‏‏‏‏،‏‏‏‏ أَوْ عَنْ أَخِيهِ‏‏‏‏‏‏ٍ‏‏‏‏،‏‏‏‏ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ‏‏‏‏‏‏ٍ‏‏‏‏،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ "إِنَّ مِمَّا تَذْكُرُونَ مِنْ جَلَالِ اللَّهِ:‏‏‏‏ التَّسْبِيحَ،‏‏‏‏ وَالتَّهْلِيلَ،‏‏‏‏ وَالتَّحْمِيدَ،‏‏‏‏ يَنْعَطِفْنَ حَوْلَ الْعَرْشِ،‏‏‏‏ لَهُنَّ دَوِيٌّ كَدَوِيِّ النَّحْلِ،‏‏‏‏ تُذَكِّرُ بِصَاحِبِهَا،‏‏‏‏ أَمَا يُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَكُونَ لَهُ،‏‏‏‏ أَوْ لَا يَزَالَ لَهُ مَنْ يُذَكِّرُ بِهِ".
                      نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کا جلال جو تم ذکر کرتے ہو وہ تسبیح ( «سبحان الله»)، تہلیل، «لا إله إلا الله»، اور تحمید، «الحمد لله» ہے، یہ کلمے عرش کے اردگرد گھومتے رہتے ہیں، ان میں شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی طرح آواز ہوتی ہے، اپنے کہنے والے کا ذکر کرتے ہیں (اللہ کے سامنے) کیا تم میں سے کوئی یہ پسند نہیں کرتا کہ اس کے لیے ایک ایسا شخص ہو جو اللہ تعالیٰ کے سامنے اس کا برابر ذکر کرتا رہے“

                      Comment

                      Working...
                      X