Announcement

Collapse

Important Information

Assalamo Allaikum

Pegham is being relocated from it's current hosts to another host. This will disrupt services, until the new setup is ready.

The new setup will be a changed one: A new face and a new site, with forum as it is. So stay tuned and see the new site.

Admin
See more
See less

دل صاحب ایمان سے انصاف طلب ہے

Collapse
X
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • دل صاحب ایمان سے انصاف طلب ہے

    دل صاحب "ایمان" سے انصاف طلب ہے!
    ماروی میمن نے بچیوں کی شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کرنے کے لیے ایک بل پیش کیا , جسے ڈاکٹر عبد الکریم صاحب حفظہ اللہ نے خلاف شریعت کہہ کر مسترد فرما دیا ۔ لیکن شاید حافظ صاحب حفظہ اللہ کا اس خلاف شریعت بل کو رد کرنا کچھ لوگوں کو ہضم نہ ہوسکا تو انہوں نے اپنے دل کی بھڑاس نکالنا شروع کر دی۔ اسی سلسلہ میں محترم قاری حنیف ڈار صاحب کی ایک تحریر بعنوان"دل صاحب اولاد سے انصاف طلب ہے" نظروں سے گزری جس میں موصوف نے اصح الکتب بعد کتاب اللہ صحیح البخاری کی اس حدیث پر طعن کیا جس میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ ﷞ نے نکاح کے وقت اپنی عمر مبارک چھ سال ذکر فرمائی ہے۔ آپ فرماتی ہیں :
    نبی ﷺ نے ان سے جب نکاح کیا تو وہ چھ سال کی تھیں اور جب انکی رخصتی ہوئی تو وہ نو سال کی تھیں۔ اور وہ آپ ﷺ کے پاس نو سال تک رہیں۔ [صحیح البخاری:5133]
    موصوف نے اس عمر میں شادی کو شرمناک فعل قرار دے کرایک طرف تو امام الانبیاء جناب محمد مصطفى ﷑ کی توہین کا ارتکاب کیا ہے اور دوسری طرف کتاب اللہ کے بعد صحیح ترین کتاب صحیح البخاری کی اصحیت پر کیچڑ اچھال کر امت کےاتفاق کو پارہ پارہ کرنے کی مذموم کوشش کی ہے۔ موصوف اس بات پہ مصر ہیں کہ کمسن بچیوں کی شادی نہیں ہوسکتی۔ اور نبی مکرم ﷑ کی شادی بھی سیدہ عائشہ ﷞ سے چھ سال کی عمر میں نہیں ہوئی, بلکہ یہ بات رسول مکرم ﷑ کی طرف غلط منسوب ہے۔ اپنے ان نظریات کا اظہار واضح لفظوں میں کرنے کی بجائے رقمطراز ہیں :
    "نہ تو اپنی بیٹی ، پوتی ،نواسی کوئی چھ سال کی عمر میں کسی 53 سال کے مفتی صاحب کو دیتا ھے اور نہ ھی کوئی مفتی 53 سال کی عمر میں کسی 6 سال کی بچی سے نکاح کرتا ھے ،، سب کو اپنا اپنا امیج بہت عزیز ھے ،، اس سے بڑھ کر کوئی نفاق نہیں ھے کہ جس کام کو خود شرمناک سمجھتے ھیں اسے نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب کرتے ھوئے ان کو شرم محسوس نہیں ھوتی ھے ،، ایک راوی نے قرآن کی نکاح کے لئے رشد کی عمر کی شرط کو ساقط کر دیا ھے ،، اور اسی ایک حدیث کو بنیاد بنا کر قرآن کو معطل کر کے رکھ دیا گیا ھے"
    موصوف کی اس عبارت سے درج ذیل باتیں صاف جھلکتی ہیں:
    1- سیدہ عائشہ صدیقہ ﷞ کے چھ سال کی عمر میں نکاح اور نو سال کی عمر میں رخصتی سے متعلق روایات جھوٹی اور غلط ہیں۔
    2- ایک راوی(جس نے مذکورہ روایت بیان کی اس) کی وجہ سے یہ سب ہوا ہے۔
    3- مذکورہ روایت کی وجہ سے قرآن کا حکم معطل کر دیا گیا۔
    4- کمسنی کی شادی شرمناک فعل ہے۔
    ہم سب سے پہلے روایت پر بات کریں گے کیونکہ تمام تر باتیں اسی کے گرد گھوم رہی ہیں ۔تو اس روایت کے صحیح ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ یہ روایت دو ایسی کتابوں میں موجود ہے جنہیں امت نے صحیح ترین کتب قرار دیا ہے۔ یعنی صحیح البخاری(5133) اور صحیح مسلم(1422)۔ اور یہ روایت صرف انہی دو کتب میں نہیں بلکہ انکے سوادیگر کتب میں بھی موجود ہے۔ اور پھر موصوف کے اس فرمان کہ " ایک راوی نے قرآن کی نکاح کے لئے رشد کی عمر کی شرط کو ساقط کر دیا ہے" سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ شاید یہ روایت کسی ایک ہی راوی نے بیان کی ہے۔ جبکہ صرف انہیں دو کتب کو ہی سامنے رکھا جائے تو معلوم ہوتا ہےکہ اس روایت کو سیدہ عائشہ صدیقہ ﷞ سے روایت کرنے والے دو مختلف اشخاص ہیں ایک کانا م اسود ہے اور دوسرے کا عروہ , عروہ سے انکے بیٹے ہشام اور امام زہری روایت کرتے ہیں تو اسود سے انکے شاگرد رشید ابراہیم , پھر ابراہیم سے یہ روایت نقل کرنے والے اعمش ہیں اور زہری سے معمر, اور ہشام سے عبدہ بن سلیمان , سفیان, علی بن مسہر,وہیب وغیرہ ہیں۔ یعنی یہ روایت کسی "ایک" راوی کی مرہون نہیں ہے۔
    اس صحیح حدیث پر طعن کرنےکے لیے موصوف نے قرآن مجید فرقان حمید کی ایک آىت کو بنیاد بنانے کی کوشش کی ہے۔ جو درج ذیل ہے:
    اور یتیموں کو آزماؤ حتى کہ وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں, تو اگر تم ان میں کوئی بھلائی دیکھو تو انکے مال انکے سپرد کر دو۔ [النساء : 6]
    اس آیت کو بنیاد بناتے ہوئے موصوف رقمطراز ہیں:
    "تقسیمِ وراثت میں تو نکاح کی عمر کو فرض سمجھ لیا گیا ھے جو کہ شعور کے ساتھ مشروط ھے ،مگر نکاح 6 ماہ کی بچی کا بھی کیا جا سکتا ھے گویا نکاح کی وہ عمر ھی سراب ٹھہری جس کو اللہ نے تقسیمِ وراثت کا پیمانہ بنایا تھا "
    موصوف کی درج بالا عبارت سے واضح ہوتا ہے کہ
    1- موصوف "تقسیم وراثت" کے لیے نکاح کی عمر کو فرض سمجھتے ہیں۔اور اسے "رشد" سے مشروط کرکے تقسیم وراثت کا پیمانہ قرار دیتے ہیں۔
    2- بلوغت سے قبل نکاح کو ناجائز قرار دیتے ہیں۔
    پہلی بات تو یہ ہے کہ مذکورہ بالا آیت مبارکہ میں اللہ﷯ نے نکاح کی عمر کو "تقسیم وراثت" کے لیے شرط نہیں قرار دیا بلکہ آیت کے الفاظ سے کسی بھی ادنی شعور رکھنے والے کو یہ بات واضح سمجھ آسکتی ہے کہ نکاح کی عمر کو جس کام کے لیے شرط قرار دیا گیا ہے وہ ہے "مال سپرد کرنا" ۔ یعنی یہ ضروری نہیں ہے کہ جب ورثاء سب نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں اور ان میں رشد بھی آ جائے تو تب مال وراثت تقسیم کیا جائے۔ بلکہ اس سے قبل بھی وراثت تقسیم کی جاسکتی ہے ۔ اور ایسے بچوں کے حصص جو ابھی سمجھدار نہیں ہوئے انکےسپرد کرنے کی بجائے ان کے سرپرست اپنے پاس محفوظ رکھیں اور جب بچے سمجھدار ہو جائیں تو پھر وراثت میں انکا جو حصہ تھا وہ انکے سپرد کر دیا جائے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ مال کی حوالگی کے لیے اللہ تعالى نے محض "نکاح" کی عمر کو شرط قرار نہیں دیا بلکہ اس عمر نکاح کے ساتھ "رشد" یعنی سمجھدار ہونے کو بھی شامل کیا ہے۔ جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نکاح سمجھدار ہونے سے پہلے بھی کیا جاسکتا ہے! کیونکہ اگر نکاح کے صحیح ہونے کے لیے سمجھدار ہونا شرط ہوتا تو اللہ تعالى صرف عمر نکاح کا تذکرہ فرماتے کہ سمجھداری اس میں ضمناً ہی موجود ہے۔ لیکن چونکہ ایسا نہیں تھا اس لیے اللہ ﷯ نے بَلَغُواْ النِّكَاحَ کے بعد ایک اور شرط فَإِنْ آنَسْتُم مِّنْهُمْ رُشْداً کہہ کر لگائی کہ جب یہ دونوں کام ہو جائیں بچے نکاح کی عمر کو بھی پہنچ جائیں اور ان میں سمجھداری بھی آ جائے تو تب انکے مال انکے سپرد کر دیے جائیں۔
    اس بات کو سمجھتے ہی یہ مسئلہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ موصوف جس آیت سے کمسنی میں نکاح کا عدم جواز کشید فرما رہے تھے , وہی آیت انکے موقف کے خلاف دلیل ہے! کیونکہ کتاب اللہ یعنی قرآن مجید فرقان حمید ایسی معجز کتاب ہے کہ :
    باطل نہ اسکے سامنے سے آسکتا ہے اور نہ پیچھے سے , (یہ قرآن) نہایت دانا, بہت زیادہ تعریف کی گئی ذات کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ [فصلت : 42]
    رہا یہ سوال کہ شادی کی عمر کیا ہے؟
    تو اسکی بابت عرض ہے کہ شادی کے دو بڑے حصے ہیں ایک نکاح محض اور دوسرا رخصتی ۔ جہاں تک نکاح کا تعلق ہے تو وہ عمر کے کسی بھی حصہ میں ہوسکتا ہے۔ نومولود بچے کا نکاح بھی ہوسکتا ہے اور اسکی طرف سے اسکے اولیاء وکیل بن کر قبول کریں گے۔ اور جہاں تک رخصتی کا معاملہ ہے تو اسکے لیے ہمبستری کے قابل ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ اس میں یہی مقصودِ اصلی ہے۔ اور اس بات کا فیصلہ صحت کو دیکھ کر کیا جاتا ہے۔ شریعت اسلامیہ نے اس بارہ کوئی پابندی نہیں لگائی۔ اور یہی بات ڈاکٹر حافظ عبد الکریم صاحب حفظہ اللہ نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کے اجلاس میں فرمائی تھی کہ "اگر 18 برس سے کم عمر لڑکی کی شادی مقصود ہو تو اسکے لیے میڈیکل افسر کے سرٹیفکیٹ کی شرط عائد کی جاسکتی ہے, اور سرٹیفیکٹ یہ ہو کہ بچہ پیدا ہونے کی صورت میں لڑکی کی جان کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔" حافظ صاحب موصوف نے ماروی میمن صاحبہ کے پیش کردہ بل کو صرف مسترد ہی نہیں کیا بلکہ انکے تحفظات کا علاج بھی مذکورہ بالا مشورہ کے ساتھ فرما دیا ہے۔ اور موصوف حنیف ڈار صاحب کی پیش کردہ وہ آیت جسے وہ اپنے حق میں سمجھ رہے تھے , جب انکے موقف کے خلاف واضح طور پر دلیل ہے ۔اور سمجھداری کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی نکاح کے قابل ہو جانے پر دلیل ہے تو پھر کمسنی کی شادی کو "شرمناک" قرار دینا نہ صرف رسول اللہ ﷑ کی توہین ہے بلکہ یہ قرآن مجید فرقان حمید کی بھی توہین اور اللہ ﷯ کی شان میں بھی گستاخی ہے۔



    مصدر:
    http://www.rafeeqtahir.com/ur/play-article-720.html
Working...
X