Announcement

Collapse
No announcement yet.

Issaale-e-Sawab Key Marwaja Tareeqey

Collapse
X
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • Issaale-e-Sawab Key Marwaja Tareeqey



    فیس بک پر ایک پوسٹ دیکھی، کہ اظہارِتعزیت کے لیے آج کل جو شمعیں جلائی جاتی ہے، وہ یہود و نصاریٰ کی تقلید ہے اور غیر اسلامی ہے۔۔۔
    ساتھ ہی موصوف نے تعزیت کا بہترین طریقہ بتایا کہ یہ دعائے مغفرت، تلاوتِ قرآنِ پاک (مردے کے لیے)، ایصالِ ثواب (جومروجہ طریقے ہیں) اور
    صدقہ جاریہ ہے
    ، کو فروغ دینے کی ترغیب کی ہے۔

    اس پر میرا سوال تھا کہ ایصالِ ثواب کے جو مروجہ طریقے مسلمانوں میں (یاپاکستانی مسلمانوں میں) رائج ہیں، وہ کہاں تک اسلامی ہیں اور درست ہیں؟
    موصوف نے خود تو جواب نہیں دیا، مگر کچھ دوسرے لوگ اس بحث میں الجھ گئے کہ 'مجھے تکلیف کس بات کی ہے اگر لوگ ایصالِ ثواب کے لیے جو کر رہے ہیں اس سے'

    اس پر میرا مفصل جواب۔۔۔۔

    سب سے پہلے یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ اللہ کا دین، دینِ اسلام جو تمام انبیا کا دین ہے اور جو واحد دین ہے انسانیت کے لیے اسکی ابتدا حضرت آدمؑ سے ہوئی اور اسکی تکمیل حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پرہوئی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتے ہیں کہ 'آج تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا گیا ہے اور اس دین کا نام اسلام ہے'
    یہ بھی ذہن نشین کر لیجیے کہ نبی پاکﷺ نے دین میں کسی قسم کی نہ زیادتی کی ہے نہ کمی کی ہے جو اللہ کی کتاب سے ٹکراتی ہو۔۔ دوسرے الفاظ میں اللہ نے جو دین دیا، نبی پاک ﷺ نے اسے عملا ایمپلی منٹ کر کے دکھایا۔
    جب قرآن کہہ رہا ہے کہ دین مکمل ہو چکا ہے تو اسکا مطلب ہے کہ اس میں قیامت تک کسی قسم کی رد و بدل نہیں کی جاسکتی، اگر کوئی بھی اضافہ کیا جائے گا تو اسے بدعت کہا جائے گا!
    بدعت کی نسبت آپ ﷺ کی بہت ساری احادیث موجود ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا جس نے (دین میں) بدعت ایجاد کی (یا اسکی پیروی کی) وہ ہم میں سے نہیں!

    ۔۔۔۔۔
    اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس پوسٹ میں جس بات کی ترغیب دی گئی ہے اور جو ایصالِ ثواب کے طریقے رائج ہیں وہ کہاں تک اسلامی ہیں۔۔۔
    پر سب سے پہلے میں یہ کہنا چاہوں گا کہ شمعیں جلا کر تعزیت کرنا سخت مکروہ ہے اور اسکی ترغیب نہیں دینا چاہیے۔

    ایصالِ ثواب کے جو طریقے رائج ہیں جنکی ترغیب دی گئی آئیے ان پر نظرثانی کرتے ہیں۔۔۔۔

    میں یہاں زیادہ تر فوکس پاکستان اور پاکستانی مسلمانوں پر رکھوں گا۔۔۔

    جب ہمارے ہاں فوتگی ہوتی ہے تو ہم سب سے پہلے اناللہ واناالیہ راجعون کہتے ہیں جو کہ مکمل طور پر اسلامی طریقہ ہے اور عین قرآن کے مطابق ہے۔۔۔
    پھر ہم فوتگی پر جاتے ہیں، مرد الگ اور عورتیں الگ ہوتی ہیں جو کہ بالکل درست ہے، مردوں کی محفل میں جب جب کوئی داخل ہوتا ہے یا خارج ہوتا ہے تو اجتماعی فاتحہ خوانی کی جاتی ہے، یہ ابتدائی فاتحہ خوانی کسی بھی طور پر اسلامی نہیں اور نہ ہی اس کو نبی پاکﷺ اور اصحابہ کرام کے اعمال سے ثابت کیا جاسکتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی کہیں سے ثابت نہیں کہ فاتحہ خوانی میں کیا پڑھنا مستحب ہے اور کہا نہیں۔۔۔۔ پہلی بدعت!
    اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ وہاں گھنٹوں بیٹھا جاتا اور طرح طرح کی باتیں کی جاتی ہے، جو کہ انتہائی نامعقول بات ہے
    ۔۔۔
    ہمارے ہاں فوتگیوں پر عورتوں کا حال دیکھنے والا ہوتا ہے، وہ چیختی ہیں، چلاتی ہیں، بین کرتی ہیں، بال و رخسار نوچتی ہیں، سینہ کوٹتی ہیں وغیرہ۔۔۔
    اس کی نسبت اللہ کے نبی ﷺ کیا فرماتے ہیں؟ آئیے حدیث کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔۔
    صحیح مسلم میں باب الجنائز میں میت پر رونے کے بیان پر حدیث منقول ہے کہ کسی کی فوتگی پر ام سلمہ نے کہا میں اتنا روؤں گی لوگوں میں اسکا چرچہ ہو گا، جب آپ ﷺ کو اسکا علم ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو شیطان کو بلانا چاہتی ہے؟
    ایک دوسری حدیث میں ہے کہ جب غالبا حضرت جعفرطیار شہید ہوئے اور انکی میت گھر پہنچی تو عورتیں بین کرنے لگیں، جس پر نبی ﷺ برہم ہوئے اور فرمایا کہ ان عورتوں کے منہ میں خاک ڈالو، یعنی انکو خاموش کرواو۔۔ ایک اور حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ زندہ کا مردہ پر بین کرنا مردہ کو عذاب دینے کے مترادف ہے۔۔۔
    اب ان احادیث کو مدِنظر رکھ کر ہم بہت آسانی سے کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے ہاں یہ بھی ایک سخت ناپسندیدہ عمل ہے جو عام رواج پا چکا ہے۔۔۔
    یہاں پر ایک اور بہت بڑی حدیث مسلم میں مذکور ہے کہ 'جس پر نوحہ کیا جائےاس کو اسکے سبب سے قیامت پر عذاب کیا جائے گا' – اب یہاں ہماری نظر فوراٗ مسلمانوں کے اک بہت بڑے گروہ کی جانب جائے گی جو کچھ مخصوص شہادتوں پر نوحے کرتے ہیں کہ یہ بدعت تو دور کی بات کتنا بڑا گناہ ہے!!۔
    آگے چلیے۔۔
    میت کے گھر خاص کر خاندان کے لوگ کھانے کھاتے ہیں، جو کہ سراسر اسلامی تعلیمات اور نبی پاکﷺ کے احکام سے خلاف ورزی ہے، دوبارہ حضرت جعفرطیار کی حدیث سے رجوع کرتے ہیں، اسکے دوسرے حصے میں نبی پاکﷺ کا فرمان اپنے گھر کی خواتین کو ہے کہ کھانا بناؤ اور جعفر کے گھر پہنچاو آج ان پر سوگ ہے۔۔۔
    اس سے ثابت ہوا کہ میت والے گھر کھانا پہنچانا انتہائی ثواب کا کام ہے مگر ہمارے ہاں اکثر اسکا الٹ دیکھا جاتا ہے کہ لوگ کھانے کو جاتے ہیں۔۔۔
    میت کو قبر میں اتارنے کے بعد کم از کم 3 دن تک لوگ سوگ منانے جاتے ہیں اور ہر روز پہلے دن کی طرح اجتماعی فاتحہ خوانی کی جاتی ہے، جو نہ پہلے دن سے ثابت ہے نہ کسی اور وقت سے۔۔۔
    اسکے بعد ایصالِ ثواب کے بہت سارے مختلف انداز سامنے آتے ہیں مثلا:
    میت کے گھر گھٹلیوں، دانوں، چنوں پر آیاتِ کریمہ پڑھا
    قرآن پاک پڑھنا
    مختلف آیات کے ورد کرنا
    اسکے بعد:
    جمعراتیں منانا
    دوبارہ سے سیپارے پڑھنا
    کھانے بنانا اور کھلانا
    چالیسویں کرنا (پھرسے وہی انداز)
    برسیاں (دوبارہ سے وہی انداز)
    یہ کہ اتنے لاکھ درودشریف پڑھے
    اتنی لاکھ بار سورہ یٰسن پڑھی
    اتنے قرآن پاک ختم کیے
    پھر ان کے حوالے دیکر بخشوانا

    ۔۔۔۔۔
    یہ تمام کی تمام رسومات جو ایصالِ ثواب کے لیے ہمارے ہاں رواج پا چکی ہیں غیراسلامی ہیں اور انکا کسی بھی صورت دین سے وابستگی ثابت نہیں کی جا سکتی۔ اسکے برعکس متعدد احادیث موجود ہیں جو انکے رد ہونے کی مد میں موجود ہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔
    اب یہاں پر بہت سارے لوگ ہیں جو یہ کہہ کر ان کو جائز مان لیتے ہیں کہ 'ہم تو اللہ کا کلام ہی پڑھ رہے ہیں، بخشش ہی کروا رہے ہیں تو اس میں حرج ہی کیا ہے؟'
    اسکے جواب میں اپنے ذہن کو یہ میسج دیجیے کہ نبی پاکﷺ نے ہمیں بول براز کا طریقہ بتایا، ہمیں زندگی کے تقریبا سبھی امور کے متعلق عملا بتایا، اگر مردوں کو بخشنے یا بخشوانے کے لیے ایصالِ ثواب کا کوئی بھی طریقہ ہوتا جس میں ثواب ہوتا یا جو اللہ تعالیٰ کے حضور مقبول ہوتا تو کیا نبی پاکﷺ ہمیں اس سے محروم رکھتے؟؟؟؟؟؟؟؟؟
    ۔۔۔۔۔۔
    آخر میں ہم دیکھتے ہیں کہ وہ کونسی باتیں ہیں جو ایک مردہ کیساتھ وابستہ ہیں اور جو قرآن اور حدیث سے ثابت ہیں۔۔۔
    مرنے کے بعد انسان اپنا سب کچھ اسی دنیا میں چھوڑ جاتا ہے مگر تین چیزوں کے:
    نیک اعمال
    (جن پر جزا سزا قائم ہو گی)
    نیک اولاد
    (جو اپنے والدین کے لیے دعا کرے، یہاں پر بہت لوگ کہیں گے کہ ہم دعا ہی تو کرتے ہیں، مگر دعا ایسے کرنی چاھیے جیسے نبی پاک ﷺ نے ہمیں بتایا ہے یا قرآن سے ثابت ہے، کوئی مولوی کہے کہ دعا کے لیے مثال کے طور پر برسی منائی جائے تو درست نہیں ہوگا)
    صدقہ جاریہ
    (مسجد بنوادی، کنوا کھدوا دیا، لائیبریری بنوا دی وغیرہ)
    اسکے کے سوا کوئی دوسرا ایصالِ ثواب کا طریقہ موجود نہیں!!!
    ۔۔۔۔۔۔
    اب آخر میں میرا ایک کونٹراسوال ہے۔۔۔
    اگر شمعیں جلا کر تعزیت کرنا یہود اور نصاریٰ کا عمل ہے تو سالگرہ منانا کب سے اسلامی ہو گیا، ہم کیوں عید میلادالنبی منانے لگے؟؟؟؟؟؟؟
    tumharey bas mein agar ho to bhool jao mujhey
    tumhein bhulaney mein shayid mujhey zamana lagey

  • #2

    Yeh Hajoom Hoor-o-GHilma Aur chand Bayzouq Log
    Gosha Janat Sila Hain Koun c Taqseer (Khata) ka

    :(

    Comment

    Working...
    X