Announcement

Collapse

Important Information

Assalamo Allaikum

Pegham is being relocated from it's current hosts to another host. This will disrupt services, until the new setup is ready.

The new setup will be a changed one: A new face and a new site, with forum as it is. So stay tuned and see the new site.

Admin
See more
See less

وادی سپٹ - Wadi Sapat

Collapse
This is a sticky topic.
X
X
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • وادی سپٹ - Wadi Sapat

    وادی سپٹ

    ناران سے شمال کی جانب اس نامعلوم اور ممنوعہ سرز مین کے متعلق بلت کم معلومات ہیں ے

    سپٹ کا داخلی دروازہ ناران سے ٥ کلومیٹر اگے سوچ کے مقام سے شروع ہوتا ہے جہاں سے ایک جیپ ٹریک شمال کی جانب اٹھتا ہوا دیکھائی دیتا ہے جو اپ کو دومیل تک لے جائے گا جو سطع سمندر سے دس ہزار فٹ بلند ہے دو میل سے وادی سپٹ کا ایکسپلور کرنے کے لیے دو راستے اختیار کئے جا سکتے ہیں دونوں راستوں میں جھیلیں پائی جاتی ہے۔۔اگر اپ شمال کی طرف داسو جانے والے قافلوں سے ساتھ سفر جاری رکھیں تو ایک بلند درے کو پار کر کے جھیل سرکٹھا تک پہنچ سکتے ہیں جو سطع سمندر سے ١٢٢٠٠ فٹ بلند ہے۔۔دومیل سے دوسرا راستہ سپٹ نالے کے ساتھ گھومتا ہوا اپ کو سپٹ پاس تک لے جاسکتا یہے جہاں ماہین جھیل اور ماہین نامی گائوں واقعی ہے۔۔
    سپٹ قیمتی پتھروں کی کانوں کی وجہ سے مشہور ہے سپٹ کی ایک جھیل سرکٹھا یا شاہ میز جھیل تک کا سفر کیا ہے اس کی کچھ تصاویر یہاں شئیر کر رہا ہوں اور اپنے سفر کا کوگل میپ کچھ حصہ تو وادی کاغان میں شامل ہے لیکن سپٹ کا بیشتر ھصہ بلند دروں کی دوسری طرف کوہستان میں ہے۔۔سپٹ
    پاکستان کے ان دور افتادہ اوررپوش وادیوں میں شامل ہے جہاں انسانی ترقی و تمدن کے اثرات نہیں بھی
    پہنچے اور زندگی صدیوں پرانی ڈگر پہ چل رہی ہ
    Last edited by Masood; 22nd September 2016, 12:06. Reason: Right justified. Tagged.
    :(

  • #2
    Thanx for sharing :rose apna safarnama jari rekheye :---)
    aap ka yeh safarnama Travell karnay walye logo kay leye mufeed sabit hoga inshaAllah

    Comment


    • #3


      شفق،دھنک،مہتاب،ہوائیں،بجلی،تارے،نغمے،پھول...
      اس دامن میں کیا کیا کچھ ہے وہ دامن ہاتھ میں آئے تو.

      ایک خاموش وادی، ایک طلسم کدہ، ایک گوشہ حیرت کدہ، ایک قطعہ خیرہ کن، ایک بستی عجوبہ،صدیوں سے موجود پیکر حسن جمال اور قوس و قزح کے رنگوں سے معمور. روحانی طمانیتوں کا مسکن اور بہشتی نظاروں کی آماجگاہ. چندے آفتاب و چندے ماہتاب کا نمونہ. خیالوں کی تصویر و خوابوں کی دھرتی. کوہ ہمالیہ کا فخر اور ضلع کوہستان کا اثاثہ...

      وادی سپٹ صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کوہستان کا ایک گمنام گوشہ ہے. ضلعی ہیڈکوارٹر داسو سے 100 کلومیٹر دور گرینڈ ایسٹرن کوہ ہمالیہ کے بلندیوں پر واقع ہے. رسائی کےلئے وادی ناران ضلع مانسہرہ سے ناپختہ سڑک اور کچھ پیدل راستہ ہے جبکہ داسو کوہستان سے مکمل پیدل مسافت ہے. غیر معروف ہونے کی وجہ سے زمانے کے دھول و گرداب سے تاحال محفوظ ہے.

      جب میں اس وادی میں پہنچا تو حیرتوں کے اتھاہ سمندروں میں جیسے غوطہ زن ہوا. کیف و سرور کے ناقابل بیان کیفیت سے جسم تھر تھر کانپنے لگا. رومانیت و روحانیت کے بھنور میں قلب و دماغ گردش کرنے لگا اور وجد و مستی کے عالم میں روح ارد گرد کے مناظر میں دیوانہ وار رقصاں ہوئی. میں قلندر و مجذوب بن گیا اور حق اللہ کے نعروں سے فضا کے سکوت کو زیر زبر کیا. پلکوں کی جنبش بھول گیا اور پتھرائی آنکھوں سے تادیر 200 مربع کلومیٹر پر محیط اس فردوس گوش کے چکا چوند میں محو غرقاب رہا.

      یقین کرنا محال ہوگیا تھا کہ یہ اس زمین کا حصہ ہے یا بہشت کا ایک ٹکرا شہاب ثاقب بن کر یہاں اترا ہے. طویل دشت زرخیز جس میں ہوا کے دوش پر جھولتے شاداب درختیں، فرحت انگیز فضا اور فضا میں اڑتے پرندے اور پھڑ پھڑاتے پتنگیں، وسیع کارپٹڈ چمن زار اور ان میں کھلتے رنگ برنگے پھول اور مسکراتی کلیاں، کشادہ چراگاہیں اور ان میں چرتے جانور اور بھیڑ بکریوں کے ریوڑ. بیچ چمن بہتے نیلے شفاف پانی کے چھوٹے چھوٹے ندیاں اور دور ابھرے ڈھلوانوں پر لکڑ،گارے سے بنے سینکڑوں مکانات. ماحول میں رومانوی سکوت، ایک ہو کا عالم کا اور اس روحانی خاموشی میں ہلکی میٹھی سی یخ بستہ و فرحت بخش ہوا کی مدھم سرسراہٹ اور کہیں دور سے گونجتی کسی چرواہے کی بانسری کی میٹھی دھن.

      وادی کے بیچ گہری سکوت کی حامل گول دائرہ نما جھیل، نیلگوں پانی سے لبریز جس میں سنہرے مچھلیوں کا ٹھاٹیں مارتا ہجوم اور گرد سیلقے سے اگے ریشمی پھول. جھیل سے زرا آگے ڈھلوانوں پر جا بجا برف کے پگھلے گلیشئیر کے موتیوں جیسے چمکیلے ٹکڑے جو چمکتے آفتاب کی تیز شعاوں سے آنکھیں خیرہ کر دیتی ہے. اور ان ڈھلوانوں سے آگے گھنے جنگلات سے اٹے پہاڑ جو چار اطراف سے وادی کے گرد حلقہ بنائے ہوئے ہیں. جیسے قدرت نے حفاظتی فصیل تعمیر کی ہو.

      میں تا دیر نیلے فلک تلے ان چمن زاروں میں لیٹا قدرت کے اس عظیم شاہکار کے خوشبووں کو روح و جسم کی گہرائوں تک اتارتا رہا. جھیل کے پانی سے کچھ دیر کھیلتا رہا. پھر اوپر ڈھلوانوں پر چڑھا. گھنے جنگلوں کے پاس گیا لیکن ایک نامعلوم خوف و ہیبت کے احساس نے اندر گھسنے نہیں دیا. واپس آیا اور کچھ دیر گھڑ سواری کا منظر دیکھا. نیلے گگن کو یکایک کالے بادلوں نے گہنا دیا. فضا میں یخ بستہ ہوا کا گزر ہوا اور ماحول کو خنکی کی لہر نے لپیٹ میں لےلیا. کچھ دیر یہی فضا قائم رہی اور پھر اسی سے سرعت مطلع صاف ہوا. آفتاب کی سنہری تاب و چمک نے فضا کو دوبارہ رنگینی بخشی.

      اس وادی میں قدرتی رعنائیوں کی خزانے بہہ رہے ہیں. یہ وادی قدیم تہذیبوں کی آمین ہے. مختلف ادوار میں مختلف تمدنوں کی آماجگاہ رہی ہے.قریبی ادوار میں انگریز بھی یہاں قابض رہے اور انہوں نے اس وادی کی قدرتی ماحول کی برقراری کےلئے اسے دنیا میں روشناس نہیں کرایا. اب یہ فردوس گم گشتہ کوہستان کے کئی قبائل کی ملکیت ہے. یہ وادی وسیع جنگلات اور قدرتی معدنیات سے مالامال ہے. یہاں جنگلی حیات مارخور،برفانی چیتے،پہاڑی بکرے،ہرن، مرغ زرین و دیگر جنگلی جانوروں کے ساتھ آبی حیات و ٹراوٹ مچھلی پائی جاتی ہے. یہاں پیراڈوٹ نامی قیمتی پتھر کی وسیع کان بھی دریافت ہوئی ہے. یہ وادی بھی ہماری حکومت کے بے توجہی کا شکار ہے. یہاں موجود قدرتی خزینے محفوظ کرکے زیر کار لائے جائیں تو یہ ہمارے صوبے کی تقدیر بدل سکتی ہے. حال میں داسو سے ممبر صوبائی اسمبلی عبدالستار خان کی اس وادی کو متعارف کرانے کےلئے کوششیں قابل تحسین ہیں.

      اللہ تعالی نے ہماری اس زمین پر کیسے کیسے انمول گوشے تخلیق کئے ہیں. انسان کی فراست یہاں فیل ہو جاتی ہے. عقل شل،فہم معذور اور خیالات اپاہج ہوجاتے ہیں. انسان خود کو زرہ تحقیر محسوس کرلیتا ہے. اللہ نورالسموات و الارض کا ورد زبان پر بے ساختہ جاری ہوجاتا ہے. انسانی تکبر کی کمر ٹوٹ جاتی ہے اور خدا کے بے پناہ نوازشات کا ادراک حاصل ہو جاتا ہے. جن انسانوں میں تکبر،بڑائی اور ناشکری کے خبائث پائے جاتے ہوں انہیں ایسے قدرتی دلکش نظاروں سے لبریز وادیوں میں اتر جانا چاہیئے. ان کے قلب کی زنگ ان فضاوں کی تاثیر سے دھل جائیں گے اور خبائث کی جگہ روحانیت کے پاکیزہ جذبے سینوں میں موجزن ہوجائیں گے.

      اس وادی کے طلسماتی جادو نے میری روح و قلب پر انمٹ نقوش ثبت کئے. بچپن میں ہم کوہ قاف کی پری کی کہانی اپنے بڑوں سے سنا کرتے تھے جو ایک دیوہیکل جن کے قبضے میں نا معلوم مقام پر قید بتائی جاتی تھی. یہاں آکر محسوس ہوا کہ اس پری کا وہ قید خانہ شائد یہی تھا جسے قوی الجثہ دیو نے یہاں قید رکھا تھا اور وہ پری اسی فضا میں یہاں وہاں اڑتی رہی ہوگی. ان حسین دشتوں، بیابانوں میں. کبھی ان ڈھلوانوں پر متحرک اور کبھی اس جھیل میں ڈبکیاں لگاتی ہوگی اور اس پر فریفتہ وہ دیو ان پہاڑوں کے چٹانوں سے ٹیک لگائے پری کے جمال جہاں آرا سے دید و دل کی ٹھنڈک حاصل کرتا رہا ہوگا. جانے وہ پری اب کہاں چلی گئی ہے؟ اور اس دیو کا انجام کیا ہوا ہوگا؟ شائد ان فضاوں میں کہیں بھٹک رہے ہونگے. میں اپنا جسم لے کر واپس آگیا ہوں مگر اپنی روح اس وادی کے بھول بھلیوں میں بھٹکتی چھوڑ آیا ہوں.
      کوئی ہے جو میری روح ان فضاوں میں تلاش کرکے واپس لے آئے


      Click image for larger version  Name:	12417816_1549699102020162_8393502312417010426_n.jpg Views:	1 Size:	50.8 KB ID:	4273894




      Click image for larger version  Name:	78665886.jpg Views:	1 Size:	71.8 KB ID:	4273895
      Last edited by Masood; 22nd September 2016, 12:07. Reason: Right Justified
      :(

      Comment


      • #4
        سپٹ ویلی کا سفر کا اغاز ناران سے ٥کلمیٹر اگے سوچ ویلج سے شروع ہوتا ہے جہاں سے ایک جیپ ٹریک شاہراہ کاغان سے دریائے کنہار عبور کرتے ہوئے سڑک کے بائیبں طرف بلند و بانگ پہاڑی دروں میں گم ہوجاتا ہے۔۔۔۔سپٹ ویلی کا زیادہ ھصہ چونکہ کوہستان میں واقع ہے اس لیے میں ایک دن پہہلے ناران پہنچ چکا تھ اکہ اس سفر کے لیے کوہستانی گائیڈ ڈھونڈوں۔۔لیکن بدقسمتی سے کوئی گائیڈ نہ مل سکا اور پھر میں اپنے جیپ ڈرائیور امتیاز اور اس کے ساتھی لیاقت کے ساتھ ہی سپٹ کے لیے روانہ ہوگیا۔۔جیپ ١٢٠٠٠ روپے میں بک کی اور یہ تقریبا دو دن کا ٹرپ تھا ۔۔میرا ارادہ سپٹ ویلی پہنچ کر وہاں سے ایک بلند و بالا درہ عبور کر کے سرکٹھا جھیل تک پہنچنے کا تھا اس کے بعد ماہین جھیل تک جانے کا تھا،،،،۔۔جیپ ڈرائیور کو بھی رستوں اور سپٹ کے بارے میں اتنی معلومات نہیں تھی،،بہر کیف ہن صبح چار بجے ناران سے نکلے اور منہ اندھیرے ہی سوچ گائوں پہنچ گئے جو سپٹ کا داخلی دروازہ ہے

        Click image for larger version

Name:	IMG_0438.jpg
Views:	1
Size:	345.4 KB
ID:	4273899

        سپٹ کا داخلی دروازہ اور سوچ گائوں
        :(

        Comment


        • #5
          ناہموار اونچے نیچے راستوں پہ جیپ ہچکولے کھاتی بلند ہوتی جا رہی تھی نیچے سپٹ نالہ پتھروں سے سرپٹختا شور مچاتا رواں تھا صبح کاذب کا وقت تھا اور مجھے خنکی کا احساس ہونے لگا۔۔میری عادت نہیں کہ جگی جگی جیپ روک کے فوٹو گرافی کروں اس وجہ سے جیپ کے اند ہی سے فوٹو شوٹ کرتا رہا مجھے امید تھی کہ جلد ہی کسی مقامی لوگ نظر ائے گے تو ان سے اگے کی معلومات لیں گے۔۔۔لیکن حیرت انگیز طور پر ہمیں کوئی بھی ذی روح نہ ملا جیپ ایک بلند درہ کو چھونے کئ بعد نسبتا ہموار راستے پہ تھی اور اگے اترائی شروع ہوگئی یہاں تک کہ سپٹ نالہ جو بہت نیچے لکیر کی مانند لگ رہا تھا ہم اس کے کناروں پہ اگئے۔۔۔نالہ کراسنگ کے لیے کوئی باقاعدہ پل نہیں تھا بلکہ لکڑی کا ایک شہتیر رکھا ہوا تھا اس پر سے جب جیپ گزری تو میں نے انکھیں بند کر لی




          Click image for larger version

Name:	IMG_0906.JPG
Views:	1
Size:	146.1 KB
ID:	4273949










          Click image for larger version

Name:	IMG_0928.JPG
Views:	1
Size:	189.3 KB
ID:	4273950











          Click image for larger version

Name:	IMG_0944.JPG
Views:	1
Size:	224.8 KB
ID:	4273951
          :(

          Comment


          • #6
            Mashallah say khoobsurat safar aik khoobsurat jaga ka..aap nay us jaga ki achi malomaat di hian ..geography bhi acha hai aap ka good :thmbup:
            agay agay deekhtay hian kia kia hota hai is safarnamay main :---)

            Comment


            • #7
              سپٹ نالہ کراس کرتے ہی دوبارہ چڑھائی شروع ہوگئی کچھ اگے جا کے مشرق سے ایک نالہ سپٹ نالہ سے ملتا دکھائی دیا لیکن عین ملاپ کے مقام پہ ایک گلیشئیر نے اس ملن کو سنسر کیا ہوا تھا۔۔یہجگہ دومیل کہلاتی ہے یہ چند مکان پہ مشتمل ایک بستی بھی ہے ،،جانے کیا وجہ تھی اس بستی میں بھی کوئی نظر نہیں ایا شاید ہم صبح سویرے پہنچے تھے ہوسکتا لوگ سوئے ہوںً یا ویسے ہی یہ مکاں خالی ہوں واللہ عالم۔۔۔میں نے جیپ والے کو کہا کے یہاں رکنے کا کوئی فائدہ نہیں اگے سفر جاری رکھو دیکھتے ہین کیا ہوتا۔۔۔۔اس کچی بل کھاتی سڑک نے تین چار موڑ لیے اور اور دوبارہ بلند پہاڑوں پہ پہنچ گئی اوپر دھوپ نکلنا شروع ہو گئی تھی سردی کا احساس زائل ہونے لگا لیکن بدستور ہمیں اس ٹریک پہ کوئی بندہ بشر نظر نہیں ایا۔۔۔ایک جگہ شفاف نالہ بہتا دکھائی دیا تو ہم رک گئے ،،یخ برفانی پانی تھا میں نے ہاتھ منہ دھویا تو دوبارہ سردی لگنا شروع ہوگئی۔۔کچھ دیر بعد دوبارہ سفر شروع ہوا اس بل کھاتی سڑک پہ کوئی ایک گھنٹہ جیپ بگھانے کے بعد ہم ایک ایسے مقام پہ پہنچ گئے جہاں پتھر پی پتھر تھے ایک ایسا بے روح مقام جہاں صرف تیز ہوا اور لمبی چپ۔۔۔۔۔۔۔۔یہاں کوئی رستہ بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا بس پتھروں سے بنا ایک سنگین ٹریک تھا جو دوسری طرف ایک بلند سنگلاخ پہاڑ کی چوٹی پہ جا کے گم ہورا تھا۔۔۔میں نے مناسب ییہ سمجھا کے جیپ سے اتر جائوں کیونکہ وہ رستہ پل صراط جیسا ہی تھا ،،،،،۔۔۔۔۔جیپ لڑھکتی پڑتی پہاڑ کی چوٹی پہ پہنچ گئی میں بھی اہستہ اہستیہ پیدل اس سنگلاخ رستے کو طے کرتا اس چوٹی پہ پہنچ گیا ،،چوٹی کی دوسری طرف کوہستان کو منظر کھلا ،،،ہر طرف پتھر ہی پتھر بلند پہاڑوں کی نشیب میں ایک وادی جس کے بیچوں بیچ ایک نالہ بہہ رہا تھا۔۔وادی کے نشیب تک جانے کے لیے جو رستہ تھا وہ بھی کہی خود کش موڑوں اور پتھروں والا تھا ہر موڑ موڑنے کے لیے جیپ کو بار بات اگے پیچھے کرنا پڑتا تھا اور جب جیپ اس تنگ رستے پہ ریورس ہوتی تو نیچے ہزاروں فٹ گہرای کھائی دیکھ کے میرا رنگ اڑنے لگتا ،،اس پتھریلے رستے کے ایک طرف سپاٹ پہاڑاور دوسی طرف میہب کھائی تھی




              Click image for larger version

Name:	IMG_0960.JPG
Views:	1
Size:	201.6 KB
ID:	4273978




              Click image for larger version

Name:	IMG_0966.JPG
Views:	1
Size:	153.1 KB
ID:	4273979




              Click image for larger version

Name:	IMG_0971.JPG
Views:	1
Size:	231.9 KB
ID:	4273980






              Click image for larger version

Name:	IMG_0985.JPG
Views:	1
Size:	332.9 KB
ID:	4273981




              Click image for larger version

Name:	IMG_0995.JPG
Views:	1
Size:	199.6 KB
ID:	4273982






              Click image for larger version

Name:	IMG_0996.JPG
Views:	1
Size:	202.6 KB
ID:	4273983





              Click image for larger version

Name:	IMG_0998.JPG
Views:	1
Size:	183.0 KB
ID:	4273984





              Click image for larger version

Name:	IMG_0999.JPG
Views:	1
Size:	107.6 KB
ID:	4273985




              Click image for larger version

Name:	IMG_1003.JPG
Views:	1
Size:	254.4 KB
ID:	4273986



              :(

              Comment


              • #8
                yeh white baraf hai ?
                kiok dhoop bhi nikli hovi hai :--)


                Comment


                • جحود مجنون
                  Editing a comment
                  aur ya dkh lay ka ya burf august ma bhi mojood itna buland ilqa ya ///....

              • #9
                Zabardast. Ham inki flashbook bnaein gey aur aap key safar'naamey ko aik kitabi shakal dein gey, in sha Allah.

                Please aap post kartey waqt urdu ko RIGHT JUSTIFY kar diya karein - main ney edit ki hai magar images thumbnail ho gaey hain.
                tumharey bas mein agar ho to bhool jao mujhey
                tumhein bhulaney mein shayid mujhey zamana lagey

                Comment


                • #10
                  khoobsurat tareen ... lkn jitni khoobsurat hy itni he khofnak safar wali hy...
                  میں نعرہ مستانہ، میں شوخی رندانہ

                  Comment


                  • جحود مجنون
                    Editing a comment
                    ..agay ja ka ya landscape mazeed karkhat hugya tha

                • #11
                  آپ کو نہیں پتہ تھا کیا کہ یہ اتنا خوفناک ہے۔۔۔؟
                  میں نعرہ مستانہ، میں شوخی رندانہ

                  Comment


                  • جحود مجنون
                    Editing a comment
                    itna khofnaak bhi nahii tha a..aik cheez understood hoti hai ka jeep track ka matlab hi aik dushwar guzar rasta hota jo kisi bakheel ki dil ki terh tang aur shaytaan ki anat ki terha lamba hota hai...liken yehan ka landscape friendly nahii tha bus sakht karkhtgii thi mahool pa

                • #12
                  ۔۔بلند درے کے بعد شروع ہونے والی پتھریلا رستہ مسلسل نیچے اتر رہا تھا کوئی ٥٠ منٹ اس پتھریلے راستے کی اترائی کے بد ہم وادی کے نشیب میں اتر گئے ۔۔ہم کوہستان پہنچ چکے تھے ۔۔۔وادی کے بیچوں بیچ نالہ تھا اس کے کنارے کنارے جیپ اگے بڑھتی رہی۔۔۔راستے کے دونوں طرف بلند پہاڑ تھے جو سبزے اور درختوں سے عاری تھے۔۔۔یہ قیمتی پتھروں کی کانیں تھیں جو انکی وجہ شہرت تھا۔۔۔نشیب میں کچھ دیر چلنے کے بعد دور ایک بستی نظر ائی تو میرا چہرہ کھل اٹھا پورے سفر میں پہلی دفعہ ہم مال مویشی اور چند لوگ دور کام کاج میں مصروف دکھکائی دئے،،کچھ ہی دیر تک ہم اس بستی میں پہنچ گئے جہاں کوئی دس سے بارہ پتھر کے حجرے بنے تھے۔۔اپنے درمیان اجنبیوں کو پا کر چھ ساتھ مقامی لوگ ہمارے گرد اکھٹے ہو گئے ۔۔میں جیپ سے اتر کر ان سے فردا فردا ملا تعارف کے بعد پتہ چلا اس بستی کا نام اسلام آباد ہے یہ لوگ بغیر بیعی بچوں کے یہاں رہتے اور اوپر پہاڑوں پہ قیمتی پتھر کے لیے ماینگ کرتے ہیں۔۔۔توقع کے برعکس یہ لوگ بہت ممان نواز اور ملنسار تھے انہوں نے کہا ہمارے حجرے کھلے ہیں ائے اپ چائے پانی حاضر ہے۔۔۔میں نے مجبوری بتای کے ہمیں سرکھٹا اور ماہین جھیل تک جانا وقت کی کمی ہے پھر کبھی ائے گے اپ مہربانی سے ہمیں جھیل تک جانے کے لیے رہنمائی فرمائے تو ہمارے لیے یہی مہمان نوازی ہوگی۔۔۔۔۔ایک دراز قد کوہستانی جس کا نام شاکر خان تھا اس نے بتایا کہ اپ ٹھیک راستے پہ ہیں پھر بھی اپ کی راہنمائی کے لیے میں ساتھ چلتا ہوں یہاں سے ٣کلومیٹر اگے شاہمیز نامیبستی ہے وہاں تک اپ کا جانا ہے شاہ میز بستی سے اگے ٢گھںتے کا جھیل تک پیدل سفر ہے۔۔بہرکیف وہ شاکر خان جیپ میں ہمارے ساتھ سوار ہوگیا اور ہمیں سپٹ کے بارے میں بتانے لگا۔۔میں نے پوچھا اپ ان بہاڑوں سے کون سا پتھر نکالتے ہیں تو اس نے بتایا یہاں کرٹوڈ نامی قیمتی پتھر نکلتا ہے جو پنڈی اور مانسہرہ کی مارکیٹ میں دس ہزار روپے فی گرام تک بکتا ہے۔۔اس نے بتایا کہ ہم ٣٠لوگ ہیں یہاں تو بلاسٹنگ کرتے اوپر پہاڑوں میں اور ہمارہ یہاں قیام ستمبر تک ہوتا اس کے بعد یہ ویلی خالی ہوجاتی ہے اور برف پڑنا شروع ہو جاتی ہے۔۔۔
                  کچھ دیر جیپ بالکل ایک ایسے رستے پہ پہنچ گئی جو مھض بڑے بڑے پتھروں پہ مشتمل تھا جیپ ڈرائیور گا لیاں بکنے لگا کے وہ خواہ مخواہ ادھر اگیا اس کی جیپ کے ٹائروں کی ماں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گئی ہے۔۔میں نے اس کی بکواس پہ کان نہیں دھرا اور گرد و پیش دیکھنے لگا رہا۔۔۔مزید ادھا گھنٹہ ان پتھروں میں لڑھکنے کا بعد جیپ ایک ہمعار میدان میں پہنچ گئی جہاں سبزہ ہی سبزہ تھا اور بھیڑ بکریاں گھاس چر رہیں تھا۔۔دائیں طرف بہنے والے نالے کا پاٹ کافی وسیع ہوگیا تھا۔۔۔۔شاکر خان نے نالے کے پار ایک جیپ ٹریک کی طرف اشارہ کیا کہ یہ وہ راستہ جو ماہین گائوں اور ماہین جھیل کی طرف جاتا ہے۔۔میں نے اس سے پوچھا جیپ جھیل تک چلی جائے گی۔۔اس نے بتایا نہیں جیپ ماہین نامی گاوں تک جائے گی اس کے بعد پیدل سفر ہے۔۔میں نے کہا اج تو ہم سرکھٹا جائیں گے کل اس جھیل کی ٹریکنگ کروں گا۔۔جیپ ڈرئیوار کی شکل مزید بگڑ گئی کے کل اسے اس راستے پہ بھی جانے پڑے گا۔۔۔کچھ دیر بعد بائیں ہاتھ پہ کچھ فرلانگ کے فاصلے پہ ایک چھوٹی سی بستی نظر ائی جس کے بیچوں بیچ ایک ٹین کا گھر نمایاں تھا۔۔شاکر خان نے کہا یہ شاہ میز بستی ہے یہاں سے جھیل کا ٹریک شروع ہوگا


                  Click image for larger version

Name:	IMG_1011.JPG
Views:	1
Size:	221.2 KB
ID:	4274178







                  Click image for larger version

Name:	IMG_1012.JPG
Views:	1
Size:	242.8 KB
ID:	4274179









                  Click image for larger version

Name:	IMG_1026.JPG
Views:	1
Size:	223.1 KB
ID:	4274180









                  Click image for larger version

Name:	IMG_1031.JPG
Views:	1
Size:	254.5 KB
ID:	4274181










                  اسلام اباد نامی بستی اور پتھر کے حجرے
                  Click image for larger version

Name:	IMG_1032.JPG
Views:	1
Size:	210.4 KB
ID:	4274182







                  Click image for larger version

Name:	IMG_1037.JPG
Views:	1
Size:	219.0 KB
ID:	4274183







                  Click image for larger version

Name:	IMG_1039.JPG
Views:	1
Size:	228.1 KB
ID:	4274184





                  شاکر خان اور براق خان دو مقامی افراد



                  Click image for larger version

Name:	IMG_1041.JPG
Views:	1
Size:	500.9 KB
ID:	4274185




                  Click image for larger version

Name:	IMG_1042.JPG
Views:	1
Size:	217.8 KB
ID:	4274186







                  Click image for larger version

Name:	IMG_1049.JPG
Views:	1
Size:	219.9 KB
ID:	4274187





                  ماہین جھیل کی طرف جانے والا جیپ ٹریک

                  Click image for larger version

Name:	IMG_1052.JPG
Views:	1
Size:	204.7 KB
ID:	4274188










                  Click image for larger version

Name:	IMG_1056.JPG
Views:	1
Size:	173.3 KB
ID:	4274189









                  Click image for larger version

Name:	IMG_1067.JPG
Views:	1
Size:	199.4 KB
ID:	4274190






                  شاہ میز بستی۔۔اور جھیل سرکٹھا کو جانے والا راستہ

                  Click image for larger version

Name:	IMG_1081.JPG
Views:	1
Size:	294.8 KB
ID:	4274191






                  Click image for larger version

Name:	IMG_1083.JPG
Views:	1
Size:	199.3 KB
ID:	4274192






                  :(

                  Comment


                  • #13
                    جیسے ہی جیپ شاہ میز گائوں پہنچی مقامی افراد ہمارے اردگرد جمع ہو گئے ان میں اکثیریت بچوں کی تھی۔۔تھوڑی دیر بعد بستی کا سردار نادر خان بھی اگیا اس نے گرمجوشی سے مجھے خوش امدید کہا حال اھوال پوچھنے کے بعد میں نے انہیں بتایا ہم جھیل سر کٹھا جانا چاہتے ہیں۔۔اس نے ہاتھ کےاشارے سے بستی کی پچھلی طرف کھلنے والی وادی کی طرف ہمیں متوجہ کر کے بتایا کہ اپ اسی راستے پہ چلتے جائے دو ڈھائی گھنٹے تک جھیل تک ہپہنچ جائے گے۔۔۔خیر سگالی کے جذبے کے تحت نادر خان نے دو لڑکوں کو بھی اواز دی کے مہمانوں کے ساتھ جائو۔۔دونوں لڑکوں نے مستعدی سے میرے ہاتھ سے سفری بیگ لے لیا اور اگے اگے چلنے لگے۔۔مجھے ان لوگوں کے خلوص اور مہمان نوازی نے متاثر کیا بستی کے سردار نے مجھے کہا کے جناب واپسی پہ کھانا ہمارے ساتھ ہے اپ کا ۔۔۔میں نے ایک دفعہ پھر ان کا شکریہ ادا کیا اور ان کی مہمان نوازی کو سراہا اور بتایا کے کیسے وہاں شہروں میں کویہستانی لوگوں کو اچھا نہیں سمجھا جاتا ان کے بارے میں کہا جاتا یہ سب کچھ لوٹ لیتے ہیں اور جوتے بھی اتروا لیتے۔۔اس پہ نادر خان نے بتایا کے یہ سب ناران کے لوگوں کا پروپگنڈہ ہے وہ نہیں چاہتے کہ کوہستان میں سیاحت کو فروغ ہو ۔۔میں نے نادر خان سے وعدہ کیا کہ جھیل دیکھ کے ہم واپس اتے اور یہی رات کو قیام کریں گے،،جیپ ڈرائیور امتیاز بستی میبں ہی رک گیا اور میں اور لیاقت اور دو مقامی لڑکوں کا گروپ جھیل کی طرف پیدل چل پڑے۔۔۔
                    :(

                    Comment


                    • #14
                      good aap ko vohan achay mehman nawaaz loog millye

                      Comment


                      • #15
                        جھیل کا رستہ کبھی چڑھائی کبھی اترائی تھا جا بجا پتھر اور تیز ہوا۔۔۔۔ہم نالے کے ساتھ ساتھ گے بڑھنے لگے جو لڑکے ہمارے ساتھ تھے وہ زیادہ اگے چل رہے تھے میں نے بھی فاصلہ رکھا اور گرد و پیش کی تصاویر بنانے لگا۔۔۔۔کوئی ادھ گھنٹے چلنے کے بعد ایک ایسی جگہ پہنچے جہان ایک شفاف تالاب سا بنا تھا پانی اتنا صاف تھا شفاف کے دل چاہا اس میں اتر جائیں۔۔۔یہ ایک چشمہ کا کمال تھا جس سے پانی نک کر یہاں جمع ہو رہا تھا۔۔

                        چشمہ پہ پہنچ کے لڑکوں نے کہاں کہ ہم اپ کے ساتھ اگے نہیں جائیں گے اپ اسی راستے پہ چلتے رہیں جھیل اب ایک گھنٹہ مزید فاصلے پر اپ کو نظر اجائے گی اب جو ں جوں پم اگے بڑھتے رہے راستہ تنگ اور مسلسل اوپر اٹھتا رہا سانس پھولنے لگے دور اوپر پہاڑ کے کچھ لوگ دکھائی دیے جو ہمیں ٹکٹکی باندھے دیکھ رہے تھے اہستہ اہستہ اوپر چڑھتے ہم ان لوگوں تک پہنچ گئے جو اٹھ لوگ تھے ۔۔سلام دعا کے بعد انہون نے بتایا کے وہ مقامی لوگ ہیں اور قیمتی پتھر تلاش کرنے ائے ہیں ۔۔۔ہم ان کے پاس کچھ دیر بیٹھ گئے باتوں باتوں میں انہوں نے بتایا کے وہ سب ہمارے ساتھ جھیل تک جائے گے نیز اپ ہمارے مہمان ہیں اور ان میں سے ایک نے مجھے ٹانگیں دبانے کی افر کی لیکن میں نے شکریہ ادا کیا کہ میں ابھی اتنا بوڑھا نہیں ہوا کہ اتنا چلنے سے تھک جائوں۔۔۔میں نے ان کو اپنی سفری مہمات کا بتانا شروع کیا جس کو سن کے وہ بہت متاثر ہوئے۔۔۔۔اب دو کے بجائے دس لوگ ہو گئے اور جھیل کی طرف دوبارہ سفر شروع کر دیا ۔۔ایک جگہ ایک کچہ مکان نظر ایا تو سب لوگ رک گئے اور اندر سے ایک لسی کا لبا لب بھرا دیگچہ لے ائے اور ایلمونیم کے پیالوں میں ڈال کے سب کو باری باری دینا شروع کر دیا۔۔۔مجھے لسی زیادہ پسند نہیں تھی اور اتنی بلندی پہ میرا دل خراب ہورہا تھا مجھے ڈر تھا کے لسی پیتے مجھے وومیٹنگ ہونا شروع ہوجاے گی لیکن مصیبت یہ تھی کہ ہم ان کے خلوص کو ٹکرا بھی نہیں سکتے تھے۔۔۔انکھیں بند کی اور لسی پینا شروع کی لیکن حیرت انگیز طور پہ یہ ویسی لسی نہ تھی نمکین انتہائی گاڑھی اور قوت بخش تھی جوں جوں پیتا گیا چودہ طبق روشن ہوگئے خالص ترین دودھ کی تھی۔۔۔مجھے افسوس ہوا کہ پہلے کیوں اتنا تکلف کیا تھا ان لوگوں نے سمجھا کے مہمان نے مشکل سے پی ہے اس لیے انہوں نے دوسرے پیالے کی آفر نہیں کی۔۔۔




                        Click image for larger version

Name:	IMG_1086.JPG
Views:	1
Size:	323.9 KB
ID:	4275957








                        Click image for larger version

Name:	IMG_1094.JPG
Views:	1
Size:	345.0 KB
ID:	4275958









                        Click image for larger version

Name:	IMG_1093.JPG
Views:	1
Size:	327.6 KB
ID:	4275959







                        Click image for larger version

Name:	IMG_1097.JPG
Views:	1
Size:	406.0 KB
ID:	4275960







                        Muqaam-e-Lassiii haha


                        Click image for larger version

Name:	IMG_1099.JPG
Views:	1
Size:	327.2 KB
ID:	4275961







                        Click image for larger version

Name:	IMG_1106.JPG
Views:	1
Size:	272.3 KB
ID:	4275962

                        Attached Files
                        :(

                        Comment

                        Working...
                        X