Announcement

Collapse
No announcement yet.

انسان زمین پر خُدا کا خلیفہ ہے*

Collapse
X
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • انسان زمین پر خُدا کا خلیفہ ہے*


    انسان زمین پر خُدا کا خلیفہ ہے

    تحریر: مقصود حسنی
    لفظ ”خلیفہ“ معنوی اعتبار سے میرا وجہ اختلاف اور غلط فہمی کا موجب و سبب رہا ہے۔ پیشِ نظر سطور میں اس کا لغوی اور اساسی جائزہ لیا گیا ہے۔ حضرت آدمؑ سے پہلے زمین پر ایک مخلوق آباد تھی قرآن مجید میں اس مخلوق کا ذکر ”جن“ کے نام سے موجود ہے
    والحجر:۷۲
    اس قوم نے زمین پر فساد پھیلایا خوف پھیلایا اور قتل و غارت سے کام لیا۔ خدا نے ابلیس کو اور اس کے ساتھیوں کو ان کی سرکوبی پر مامور کیا، جنہوں نے انہیں مار مار کر جزیروں اور پہاڑوں میں بھگا دیا۔
    ( ابن کثیر)
    گویا یہ مخلوق زمین پر موجود رہی اور اِدھر اُدھر بکھر گئی اور اب جب تخلیق آدم ہوئی (۲:۰۳) تو اسے اس مخلوق اول کا جانشین سمجھ لیا گیا یہ غلط فہمی اکثر و بیشتر علماءکو بھی ہوئی ہے۔
    لفظ خلیفہ عربی زبان کا ہے جسے علمائے امت نے جانشین، وصی، سردار، امام، ظل سبحانی، مجتہد حاکم شریعت، وائسرائے، لیڈر، سیاسی تنظیم کا رسول، کامل الصلاح، امیر المومنین، رئیس حکومت، قائد اعظم، نگران، شہید مشابہ ، الوالامر، قائم مقام ، مولیٰ، نمائندہ عوام، محدث، سربراہ مملکت، مصلح، صدیق، بعد میں آنے والا، ظلم و ستم سے نکالنے والا۔ مرشد‘ نائب مرشد وغیرہ کے مفہوم میں لیا ہے ہر معنی اپنے اندر بے پناہ جامعیت وسعت اور فصاحت رکھتا ہے لیکن یہاں گفت گو نائب جانشین اور قائم مقام تک محدود رہے گی۔
    یہ حقیقت تمام شک وشبہات سے قطعی بالا ہے کہ خداوند عالم حی و قیوم اور بے رنگ بے بو، بے مثل بے مثال ہے وہ (ہمیشہ سے) ایک ہے بے نیاز ہے (یعنی تما م آلائشوں‘ آلودگیوں اور حاجات سے پاک ہے) نہ (اس نے) کسی کو جنا، نہ وہ کسی سے جنا گیا، اور اس کے جوڑ کا کوئی نہیں
    (سورة الاخلاص)
    اس ضمن میں اپنے ایک خطبہ میں جناب علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
    ”خدا وند عالم ہمیشہ سے موجود ہے مگر حادث اور نوپید نہیں۔ وہ موجود ہے مگر اس کی ہستی عدم و نیستی کے بعد نہیں۔ وہ ہر چیز کے ساتھ ہے لیکن بطور ہمسر نہیں۔ وہ ہر چیز سے الگ ہے مگر کنارہ کش نہیں۔ وہ ہر چیز کا فاعل ہے لیکن اس کا فعل حرکت اور آلات کا نتیجہ نہیں وہ بصیر ہے، جب اس کی مخلوق نہ تھی، وہ منفرد ہے کیونکہ اس کا ایسا کوئی ساتھی نہیں جس سے وہ اپنا جی بہلائے اور نہ ہونے سے الجھن محسوس کرے
    (نہج البلاغہ)
    ثابت ہوا خداوند عالم کی ذات گرامی ہمیشہ بغیر کسی ساتھی و ساجھی کے موجود ہے۔ اس کے برعکس انسان مخلوق بھی ہے، فانی بھی ہے اور بے شمار ساتھی اور عزیزواقارب رکھتا ہے۔ ان سے اس کا تعلق اور رشتہ استوار ہے۔ خدا لامکانی ہے اور یہ مکان رکھتاہے۔ ان حالات میں خدا کا جانشین اور نائب کیوں کر اور کیسے ہو سکتا ہے۔
    جانشینی چھے صورتوں میں ممکن ہوتی ہے:
    (۱)مر جائے
    (۲) نا اہل ثابت ہو
    (۳) دستبردار ہو جائے
    (۴) کہیں چلا جائے
    (۵) قتل ہو جائے یا نکال دیا جائے۔
    ٦- ضرورت اور حاجت کے تحت مقرر کیا گیا ہو
    معاذاللہ، خداوند عالم پر ان میں سے کسی حالت کا اطلاق ممکن نہیں، اس کی موجودگی میں جانشینی چہ معنی دارد، یہ ہیں وہ سوال یا معمہ جو میرے ذہن میں نزع کی صورت اختیار کرتا رہا ہے۔
    خلافت درحقیقت اصل حاکم کی نیابت ہے
    (خلافت و ملوکیت ص ۲۳)
    کیونکہ نیکو کار افراد (ابن کثیر) اللہ کی زمین پر اس کے نائب حکومت ہوتے ہیں
    (کشاف زمحشری ع،ص ۱۶)
    یعنی اس کے ملک میں اس کے دئیے ہوئے اختیارات (اسلامی نظام زندگی، مودودی ص ۱۳۴) استعمال کرتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ مال (اصل میں) اللہ کا ہے (یونس،۵۶۔یٰسین،۳۸)
    لیکن انسان تصرف میں اس کا نائب ہے۔آدم قوت عاملہ ملنے کے باوجود مطلق العنان نہیں
    (یوسف ۰۴، شوریٰ ۰۰۱)
    کہ جسے چاہے کرتا پھرے کیونکہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اللہ ہی کے تابع فرمان ہے
    (اعراف ۴۵، روم ۶۲)
    اور حکم کا اختیار اسی کی ذات سے عبارت ہے
    (انعام ۷۵)
    اس کی بادشاہی میں شرکت نہیں رکھتا
    (الفرقان،۰۲)
    قوت عاملہ جو انسان کو عطا ہوئی اس کے (خدا) احکام کو پوری جمعیت (ابن کثیر) میں رائج کرنے اور تعمیل کے لیے عطا ہوئی چونکہ خدا کا کوئی مادی وجود نہیں
    (اخلاص، نہج البلاغہ)
    جو انواع عالم پر اپنی شریعت نافذ کرنے اور انہیں حیات کے نہاں گوشوں سے روشناس کراسکے، تصرف کے لیے مادی وجود کا جواز نکلتا ہے جو اس نیابت کو انجام دے اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ خدا کو تصرف کا اختیار نہیں رہا یا رہتا۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ تصرف اس کی مرضی اور منشا سے ہٹ کر نہ ہو۔
    آدم جنس کے اعتبار سے جہاں خداوند عالم کی ذات سے مختلف ہے تو وہاں مخلوق اول(۷۲/۵۱) اور ملائکہ کا بھی ہم جنس نہیں بنتا۔ ایک کو بے دھواں آگ سے بنایا گیا دوسری کو ”نور“ سے جب کہ آدم کو طین(وخلقة من طین) حق سے تخلیق کیا گیا۔ جنس کے اعتبار سے انسان کسی کا خلیفہ ثابت نہیں ہوتاکیونکہ مادہ تخلیق میں زمین آسمان کا فرق پایا جاتا ہے
    فرشتوں کا یہ کہنا کہ وہ (آدم)زمین پر فساد(البقرہ،۰۳) پھیلائے گا۔
    ہادی مشترک معلوم ہوتی ہے ۔ مخلوق اول کے اجزائے ترکیبی (بے دھواں کی آگ) مقصد میں اسی طرح آدم کے اجزائے تخلیقی(مٹی، گرمی، سردی تری خشکی اندوہ، خوشحالی
    (نہج البلاغہ)
    متضاد خاصیت کے حامل ہیں۔ یہ کیفیت آدم پر عائد کر کے اسے مخلوق اول کا جانشین کہا جا سکتا ہے کیونکہ سرکش فسادی مخلوق کی جانشین سرکش اور فسادی مخلوق ہوسکتی ہے کوئی بھی کس کا خلیفہ یا نائب اور قائم مقام اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک منصب اور اصل اوصاف کو اپنے اندر سمو نہ لے اور ان سے منہ زور ہو کر اصل نہ ہوجائے۔ آدم کو اس مخلوق کا خلیفہ کہنا کچھ اس حقیقت سے مختلف نہیں کہ فرشتوں کے ظن کی پیروی میں اسے قاتل اور فسادی تصور کیا جائے۔
    جائے رہائش اور فطرت کی قدر سے مطابقت ہی ان کے ظن کا موجب و سبب ہو سکتی ہے۔
    یا یوں سمجھیے اگر آدم کو اس مخلوق کا خلیفہ مان لیا جائے تو یہ نیابت اس مخلوق کے فعل و عمل کی ہوگی اور فرشتوں کے اس خوف کی شہادت ہو گی کہ وہ زمین پر فساد پھیلائے گا خدا کے اس فرمان کی (معاذاللہ) تردید ہوگی۔ انی اعلم مالا تعلمون۔
    آخر فرشتوں نے آدم کو فسادی کیوں کہا ہے ؟ اس کی شاہد ذیل تین وجوہات ہو سکتی ہیں۔
    ا۔ سابقہ مخلوق ارضی کے کرتوت دیکھ کر
    ب۔ آدم کے اجزائے تخلیقی دیکھ کر جن میں واضح تضاد پایا جاتا ہے۔
    ج۔ فرشتوں نے آدم کی ساعت تخلیق زحل سمجھی ہو جس میں بے پناہ غیض و غضب پایا جاتا ہے۔
    حقائق کو اگر حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو یہ جاننے میں دیر نہیں لگتی کہ ابلیس کو اپنی عبادت وریاضت پر گھمنڈ تھا اور وہ”خلافت“ کا امیدوار ہوگا اس نے ہی فرشتوں کو سرکش اور سوال و جواب پر اکسایا ہو گا۔ یا وہ گروہ جن کو اپنی عبادت کے باعث ملائکہ میں شامل ہوگئے ہیں اس نے یہ سوال اٹھایا ہو فرشتے تو جواب الٰہی سے مطمئن ہوگئے کیونکہ وہ فطرتاً فرمانبردار تھے اور یہ سرکش فطرت رکھتا تھا۔
    حضرت عائشہ ؓ روایت کرتی ہیں کہ حضور اکرم نے فرمایا کہ ملائکہ نور سے اور ابلیس مشتعل آگ سے تخلیق ہوا اور ابلیس کے اصل مادہ میں خباثت تھی(ابن کثیر)
    حضرت حسن بصری فرماتے ہیں ابلیس ملائکہ سے نہ تھا بلکہ وہ جنات کی اصل ہے جیسے آدم انسان کی اصل ہے (راوہ ابن جریر) ابلیس جن کے قبیلہ سے تھا جو کثرت عبادت کی وجہ سے ملائکہ میں داخل ہوگیا تھا اگرچہ اصلاً جدا تھا
    تفسیر بیان السبحان سورة کہف
    تب ہی تو منکر ہوگیا(بقرہ ۴۳)
    وہ خلافت کا معیار زہد خیال کرتا تھا جب کہ خداوند عالم نے کسی دوسری چیز کو معیار خلافت ٹھہرایاتھا۔
    دوسری مخلوق (جو پہلی مخلوق سے) ہی نوعیت و حیثیت میں جدا ہونے کے بارے میں یہ خیال کرنا کہ وہ بھی پہلی مخلوق کے نقش قدم پر چلے گی ضروری نہیں۔ خیر یا شر کو معیار بنا کر جانشین کا تعین کیونکر ممکن ہے۔ آدم اس مخلوق کا ہم جنس ہم صورت ہم فطرت والمحوار نہیں پھر اس کی جانشینی کیوں اور کیسے۔۔۔؟
    مادہ کو تاثیر کے اعتبار سے ملاوٹ سراپا مطیع فرمانبردار جن میں باغی سرکش اور آدم اضداد کا مجموعہ اب ملاحظہ کریں کیا تعلق بنتا ہے ان کا اور جانشین کا کہاں جواز نکلتا ہے؟
    آدم کو ہفتہ کے چھٹے روز یعنی جمعہ (پیدائش ۷۳ تا ۱۳) کو پیدا کیا گیا جب کہ فرشتوں کو بدھ کے روز اور جنات کو جمعرات کو پیدا کیا گیا
    (روایت ابو العالمیہ، ابن کثیر)
    چھٹا روز سعد اکبر کا تھا۔ بظاہر دن کے پہلے حصہ میں آدم کو تخلیق نہ ہوئے اور یہ مشتری کی ساعت تھی انہوں نے گمان کیا کہ آدم کی تخلیق زحل میں ہوئی ہو گی اور اس کی سرشت میں اثرات رکھ دیے گئے ہوں گے جب کہ حقیقت یہ تھی کہ آدم مشتری کی آخر ساعت میں یعنی عصر و مغرب کے مابین بنایا گیا۔
    اب یہاں دو چیزیں قابل ِ غور ہیں
    اول یہ کہ ابلیس اور اس کے ساتھیوں کے جنہوں نے آدم پر فسادی ہونے کا لیبل چسپاں کیا، تخلیق ساعت میں دھوکہ کھایا ۔
    دوم یہ کہ ابلیس جسے اپنی عبادت و ریاضت پر ناز تھا خلافت سے محرومی کو برداشت نہ کرسکا کیونکہ کسی چیز کی ابتدا ہی اس کی عظمت یا کمتری کی چغلی کھا سکتی ہے آدم کو ایک طرف مشتری کی بہترین ساعت میں تخلیق کیا گیا تو دوسری طرف اسے علم و حکمت کی دولت سے سرفراز کیا گیا اور یہ کوئی معمولی اعزاز نہ تھا، اسے اپنی کمتری کا احساس ہوگیا۔ اس کے پاس دو ہی راستے تھے،
    وہ سرتسلیم خم کر دے
    بغاوت اور فرا ر کی راہ اختیار کرے
    اس نے صراطِ ثانی اپنے لیے مناسب خیال کی اس طرح وہ راندہءدرگاہ ہو گیا۔ یاد رہے یہ راہ اس نے اپنی فطرت کے عین مطابق اختیار کی۔
    حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اور علامہ محمد طیب صاحب نے خلافت کے لیے مشابہت شرط قرار دی ہے
    (ازالتہ الخفاج۳ اک قرآن)
    جیسا کہ عرض کر چکا ہوں کہ خداوند عالم مادی وجود سے مبرا و بالا ہے اور وہ حی و قیوم حاکم الحاکمین، مالک الملک اور رب العالمین ہے۔ معاذاللہ اسے موت کیسے آسکتی ہے یا پھر وہ اپنی حاکمیت سے دستبردار ہو سکتا ہے یا اسے نا اہل قرار دے دیا جائے، یا یہ کہ آدم نے بالجبر غلبہ حاصل کر لیا، ایسی ”سوچ“ قطعی کفر ہے۔ اس لیے خلافت ان معنوں میں نہیں لی جاسکتی۔
    خدائے بزرگ و برتر کا خلیفہ وہی ہو سکتا ہے جو خدائی اوصاف و کمالات اپنے اندر سموئے ہوئے ہو۔ ان سے متاثر ہو اور پوری طرح اس کا اطاعت شعار ہو کر اس کی مرضیات پر عمل پیرا ہو
    (اک قرآن)
    خلیفہ وہ ہے جو کسی کارخاص میں کسی کا جانشین قائم مقام اور کارکن ہو۔
    فرمان نبوی ہے علی اگر خدا نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا فرمایا۔
    مزید ملاحظہ ہو پیدائش: ۷۲)
    حالانکہ خدا کی کوئی شکل نہیں جسے مخلوق مفلوع ملاحظہ کر سکے اور وہ پہچان سکے اور اس کو ادراک کرسکے۔ اپنی صفائی کا نمونہ آدم (انسان) کو بنایا جو خدا کو دیکھنا چاہے اس کے اوصاف و کمالات کا آئینہ میں ملاحظہ کرے اور یہ اس کی مخلوق میں یعنی خلیفہ و جانشین ہے جس طرح خدا کی ملکیت پوری کائنات اس کے احکامات کے نفاذ کے سلسلہ میں پوری کائنات کا حاکم ہے ملاحظہ ہو سورة جن ۲۲، سورة اعراف ۸۵، سورة احقاف ۵۲) حضرت قبلہ سید محمد سبطین فرماتے ہیں، اللہ نے آدم کو اپنی صورت و صفات پر خلق کیا دو چیزیں سامنے آتی ہیں، صورت اور دوسری صفات تو سمجھ میں آتی ہیں لیکن صورت والی بات جلد سمجھ میں آنے والی نہیں، چیز کا کوئی مادی وجود ہی نہ ہو تو اسے کیونکر کسی کے مثل اور مشابہ قرار دیا جاسکتا ہے، خدا کا مادی وجودنہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ موجود ہی نہیں۔ خدا کی ہستی مادی وجود نہ رکھتے ہوئے بھی موجود اور ہر جگہ حاضر و ناظر ہے اور یہی اس کی ہستی کا کمال ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ آخر وہ کون سا وجود ہے جس کا رسالت مآب نے ذکر فرمایا ہے ۔ قرآن مجید میں جا بجا خدا کا ہاتھ، خدا کا کان، خدا کی زبان جیسے الفاظ استعمال ہوئے ہیں مزید (بخاری شریف ۲۳۔۴۷۲۱،۱۷ ۲۲،۳۶۲۱،۰۵۳۱،۸۴۲۱،۰۶۲۲،۱۶۲۲)
    ہجرت کے دوران حضور اکرم غار ثور میں ٹھہرے،دشمن غار کے دہانے پر پہنچ گیا حضرت ابو بکر گھبرا گئے تو آپ نے اطمینان دلایا ”خدا ہمارے ساتھ ہے“ تاریخ اسلام ،ع۱ ، ص ۶۴ از علامہ معین الدین بروی)، آخر یہ کونسا وجود ہے کون سے اور کیسے اعضاءہیں جو نہ ہوتے ہوئے بھی ہوتے ہیں ، در حقیقت یہ اس کی قوت کا صلہ ہے جو ہر فصل کی نگران ہے بھلائی، اس کی جانب پھر جاتی ہے اور برائی کے لیے بدلہ مخصوص ہے۔
    ایجاد کائنات کے اعتبار سے خداوند عالم کی تین صفات ہیں
    اول صفت ابداع، جس کے معنی ہیں نیست سے ہست کرنا
    دوم خلق، مادہ موجود ہے اس سے کوئی چیز تخلیق کرنا اور ان کے خواص و آثار مخصوص و محفوظ کرنا، سو، تدبیر یعنی کائنات عالم میں تصرف کرنا اور اپنے ارادے کے مطابق ان کی حالت بدلنا
    (حجة اللہ البالغہ)
    ادھر آدم کو تسخیر کائنات کا حکم دیا ہے (اعراف ۴۵) اور اپنے علم و عقل سے تصرف (البقرہ ۰۳) کا حکم بصورت ازن مراحمت فرمایا ۔ یوں سمجھیے کہ انواع عالم (جس میں مخلوق اول بھی شامل ہے) کو محکوم کر دیا۔ ان پر اختیار رکھنے کی قوت و صلاحیت عطا کر دی۔
    تقاضائے قدرت ہے کہ تصرف استعداد مقدور بھر ہوتا ہے(۲:۶۸۲،۴:۲۴،۲۶،۵۶،۷) تصرف کے لیے تین کمالات کا اجماع لازم ہے
    (۱)علم
    (۲) قدرت
    (۳) ارادہ قصد
    قصد اور ارادہ علم کے بغیر ممکن نہیں۔اس لیے علم مقدوم و اول ہے ۔ تصرف کا انحصار اس پر ہے یہاں سورة بقر کی آیت نمبر ۰۳ کی تلاوت کا شرف دوبارہ حاصل فرمائیں تو حقیقت واضح ہو جائے گی، گویا خداوند عالم نے ”علم کو معیار خلافت الٰہیہ“ ٹھہرایا ہے کیونکہ علیم و خبیر کا خلیفہ بھی علیم و خبیر ہونا لازم ہے۔
    (سورة رحمٰن، ۴) تاکہ انواع عالم کو تصرف میں لائے، تصرف کا قصد اور قوت کا استعمال علم کے بغیر ممکن نہیں معلوم ہواآدم کو اپنے علم کا ایک حصہ عطا فرمایا اور یہ عطا ہی دوسری مخلوقات پر فضیلت کا موجب بنی۔ کسی کا خلیفہ وہی ہو سکتا ہے جو اس کی صفات سے متعف اور اس کے کمالات کا آئینہ ہو۔
    (خلافت الٰہیہ ص:۱)
    مفہوم یہ ہوا کہ آدم قوت عاقلہ اور قوت عاملہ کے امتزاج سے یا باطبع بادشاہ (پوری جمعیت کا بادشاہ سورة احقاف ۵۲، جن ۴۲، اعراف ۵۱) کی حیثیت اختیار کرلیتا ہے اور (پھر اپنی) جبلت یعنی خصلت کے اعتبار سے حکیم و مرشد مکمل ہوگا جس طرح خدا حاکم ہے اور اس کی قدرت و حاکمیت کائنات پر محیط ہے اس طرح آدم قوت عاقلہ و عاملہ سے سرفراز کیا گیا تاکہ وہ اس کے احکام کو اسی کی مرضی و رضا کے مطابق نافذ کرے کیونکہ آدم عادات و صفات میں اس کے مشابہ ہے جس طرح وہ علیم ہے اسی طرح اس کا خلیفہ بھی علیم ہونا ضروری ہے۔
    خداوند رب العالمین ہے۔ حی وقیوم ہے قادر مطلق ہے علیم بالذات ہے۔ بصیر بالذات ہے۔ حکیم بالذات ہے، حفیظ بالذات ہے اور اب خلیفہ کو بھی حی،قادر، علیم، سمیع، حکیم و حفیظ، شہید و غنی ہونا لازم ہے اور خداوند عالم جامع، جمیع صفات کمالیہ کا وہ خلیفہ ہے جو اس کی ذات سے متصف ہے اور اس کے کمالات کا مظہر ہے۔ مگر وہ چونکہ خالق ہے اور یہ مخلوق اور مخلوق واجب الوجود نہیں ہو سکتا
    خلافت الٰہیہ ص
    جب آدم علوم عطائیہ کا صرف بھلائی کی صورت میں کرتا ہے تو وہ(خدا) اس کے عمل قوت اور ارادہ میں غور کرتا ہے
    (انبیاء۶۱، نور۵۱۱، ص ۷۲، الدھر ۶۳)
    اور اسے اپنی عنایات کا نام دیتاہے
    (فاتحہ ۳، بقر ۵۰۱، النساء۹۲۱)
    کائنات محض ساکت و جامد یا بےکار پڑی رہنے والی شے نہیں بلکہ اسے استعمال کے لیے بنایا گیا ہے۔
    (غدیات ۶۵)
    اور آدم کو کل تصرفات کا ذریعہ و وسیلہ ٹھہرایا ہے (کشف المحجوب ص۵۰۳، ۰۳ ترجمہ پیر کرم شاہ) تاکہ وہ قادر مطلق کی موجودگی کا شاہد ہوسکے
    (بقر ۷۱، النساء۱۴)
    تو دوسری طرف اپنے فضل الاخلاق ہونے کا ثبوت فراہم کرسکے۔
    اگر آدم کو اس جمعراتی مخلوق کا جانشین قرار دیتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ
    آدم اس کے برابر اورمشابہ ہے
    دوم معاملات اسی مخلوق سے یا اس کے متعلق ہیں سوم فطرت و خصائل دونوں کے ایک سے ہیں
    چہارم صرف اسی مخلوق کی اصلاح درکار تھی
    پنجم جو علماءعلم و معرفت جو اسمائے مطابق و ظرف کے اعتبار سے برملا، اگر یہ مان لیا جائے تو آدم سجدہ کا استحقاق نہیں رکھتا۔
    روزنامہ وفاق لاہور٣٠ اگست ١٩٨٨

Unconfigured Ad Widget

Collapse

Unconfigured Ad Widget

Collapse

pegham Youtube Channel

Collapse

Working...
X