Announcement

Collapse

Important Information

Assalamo Allaikum

Pegham is being relocated from it's current hosts to another host. This will disrupt services, until the new setup is ready.

The new setup will be a changed one: A new face and a new site, with forum as it is. So stay tuned and see the new site.

Admin
See more
See less

behtreen aqwaal

Collapse
X
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts


  • کبھی کبھی انسان اتنا خالی ہو جاتا ہے اتنا خالی کہ اپنی دھڑکن اور سانس لینے کا عمل بھی خاموشی میں ہنگامہ کے برابر محسوس ہوتا ہے
    Never stop learning
    because life never stop Teaching

    Comment




    • کسی انسان کے کم ظرف ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنی زبان سے اپنی تعریف کرنے پر مجبور ہو۔ دوسروں سے اپنی تعریف سننا مستحسن نہیں اور اپنی زبان سے اپنی تعریف عذاب ہے۔

      (کتاب: کرن کرن سورج)
      حضرت واصف علی واصف ؒ

      Never stop learning
      because life never stop Teaching

      Comment



      • استاد دامن کا ایک چاہنے والا اُن کے لیے دیسی گھی میں پکے دو پراٹھے لے کر آیا۔ استاد دامن نے پراٹھے ایک طرف رکھے اور اُٹھ کر ایک بڑا سا پیالہ لیا اُس میں چینی ڈالی۔ ایک پراٹھے کو توڑا اور پیالے میں ڈھیر ساری چوری بنا لی۔ پھر اُٹھے اور کمرے کے چاروں کونوں میں وہ چوری زمین پر ڈال دی اور واپس بیٹھ کر مہمان کو کہا کہ لو ایک پراٹھا مل کر کھائیں۔
        مہمان پریشانی سے زمین پر گری چوری پر نظریں مرکوز کیے تھا کہ اچانک بڑے بڑے سائز کے بہت سے چوہے کونوں کھدروں سے نکلے اور تیزی سے چوری کھانے لگے۔
        مہمان نے حیران ہو کر پوچھا کہ استادمحترم یہ کیا؟
        ۔ہنس کر جواب دیا چوری ہے اور چوہے کھا رہے ہیں۔ اس میں حیرانی کی کیا بات ہے؟
        میرے کمرے کے چاروں طرف دیکھو۔ میری ساری عمر کی کمائی۔ میرا خزانہ میری کتابیں تمہیں ہر طرف نظر آئیں گی۔ چوہے خوش ذائقہ چوری کے عادی ہیں۔ ان کو اب کتابوں کے کاغذوں کا بے مزہ ذائقہ اچھا نہیں لگتا۔ اس لیے چوہوں کو چوری کھلانے کا فائدہ یہ ہے کہ میری کتابیں محفوظ ہیں۔میرا خزانہ محفوظ ہے۔
        تم بھی اگر اپنے کسی بھی خزانے کو محفوظ رکھنا چاہتے ہو تو یاد رکھو اردگرد لوگوں کا خیال رکھو۔ انہیں چوری ڈالتے رہو۔ سدا سکھی رہو گے۔
        پھر کچھ دیر خاموشی کے بعد استاد نے مہمان سے مخاطب ہو کر پھر کہا ۔ زندگی بھر کے لیے ایک بات یاد رکھ۔ رب العزت زندگی میں جب بھی کبھی تمہیں کچھ دے۔ اُس میں سے کچھ حصہ اپنے اردگرد موجود لوگوں کو ضرور بانٹ دیا کرو ۔ کیونکہ لوگوں کی ہر اُس چیز پرنظر ہوتی ہے جو تمہارے پاس آتی ہے۔ یہ لوگ کوئی اور نہیں تمہارے قریبی عزیز اور اچھے دوست ہیں۔ ان کا خیال رکھنا تمہارا اخلاقی اور مذہبی فریضہ بھی ہے۔
        گو لوگوں کے حوالے سے سہی مگر استاد دامن کا یہ پیغام بہت سچا اور خوبصورت ہے۔۔۔!!!

        Never stop learning
        because life never stop Teaching

        Comment



        • مولانا روم نے لکھا ہے کہ ایک دفعہ ایک شخص نے اللہ کی عبادت کرنا شروع کر دی اور پروردگار کی عبادت میں اتنا مشغول ہوا کہ دنیا میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر سب کچھ بھول دیا اور سچے دل سے اللہ کی رضا میں راضی رہنے کے لیے انسانیت کے رستے پر چل پڑا.
          مولانا روم کہتے ہیں کہ ایک وقت وہ آیا کہ اس کے گھر میں کچھ کھانے کو بھی نہ بچا اور ہوتے ہوتے وہ وقت بھی آیا کہ گھر باہر سب ختم ہو گیا اور وہ شخص چلتے ہوئے موت کے انتظار میں گلیاں گھومتا کہ اب پلے تو بچا کچھ نہیں تو انتظار ہی کر سکتا ہوں اللہ سنبھال لے.
          ایک دن بیٹھا ہوا تھا کہ دیکھا اس کے قریب سے ایک لمبی قطار میں گھوڑے گزرے...
          ان گھوڑوں کی سیٹ سونے اور چاندی سے بنی ہوئی تھی اور ان کی پیٹوں پر سونے کے کپڑے پہنے ہوئے تھے.
          ان گھوڑوں پر جو لوگ بیٹھے تھے وہ کسی شاہی گھرانے سے کم نہ لگتے تھے ان کے سروں پر سونے کی ٹوپیاں تھیں اور ایسے معلوم ہو رہا تھا کوئی بادشاہ جا رہے ہیں.
          اس شخص کے دریافت کرنے پر اسے بتایا گیا کہ یہ ساتھ گاؤں میں ایک بادشاہ ہے یہ سب اس کے غلام ہیں اور بادشاہ کے دربار میں جا رہے ہیں.
          وہ شخص کچھ دیر حیران ہوا کہ یہ حالت غلاموں کی ہے تو بادشاہ کی کیا حالت ہو گی.
          اس نے آسمان کی طرف سے اٹھا کر کہا میرے بادشاہ میرے مالک میرے اللہ....! شکوہ تو تجھ سے نہیں کرتا لیکن اس بادشاہ سے ہی غلاموں کا خیال رکھنا سیکھ لے....
          اتنی بات کہہ کر وہ شخص چل دیا کچھ دن گزرے تو ایک بزرگ آئے اور اس کا بازو پکڑ کر اسے ایک جگہ لے گئے جہاں وہی غلام وہی گھوڑے تھے...
          اور دیکھتا کیا ہے کہ کسی گھوڑے کی ٹانگ کٹی ہوئی ہے کسی غلام کا دھڑ گھوڑے کی پشت پر پڑا ہوا ہے کسی غلام کے ہاتھ کٹے ہوئے ہیں کسی کے سر سے خون نکل رہا ہے کوئی گھوڑے کو ذخمی حالت میں واپس لے کر جا رہا ہے...
          وہ شخص حیران ہوا اور بزرگ سے پوچھا جناب آپ کون ہیں اور یہ سب کیا ماجرا ہے.
          اس وقت اس بزرگ نے کہا کہ یہ وہی غلام ہیں جو اس دن سونے میں لپٹے ہوئے تھے اور آج یہ ایک جنگ سے واپس آ رہے ہیں اس لیے ان کی یہ حالت ہے....
          مجھے خواب میں بس اتنا کہا گیا ہے کہ اسے کہنا بادشاہوں کے لیے قربانیاں دینا بھی ان غلاموں سے سیکھ لے......
          حقیقت میں ہمیں قربانی دینا آیا ہی نہیں.... چاہے دین کا معاملہ سیدھا کرنا ہو ،رشتہ داروں کا یا دنیا کا جس دن ہم قربانی دینا سیکھ لیں گے دین کے لیے اپنوں کے لیے اور دنیا کے لیے...اس پر توکل کر نا سیکھ لیں گے، اس دن شہنشاہ اللہ رب العزت ہمیں ایسی بادشاہت عطا فرمائے گا جو کبھی نہ ختم ہو گی...!
          Never stop learning
          because life never stop Teaching

          Comment




          • جس کے من میں سچ کی ڈھونڈ کا کیڑا لگ جائے پھر جیون بھر اسے نہ سکھ ملتا ہے نہ شانتی۔۔۔۔۔ سچ بولو، سچ کو اپناو، سچ جیو پرنتو سچ کی ڈھوند میں نہ نکلنا۔۔۔۔۔۔ سدا چلتے رہو گے۔۔۔۔۔ چلنے کے پھیر میں آ جاو گے۔ نہ رستہ ہو گا نہ ڈنڈی اور نہ کہیں پہنچو گے۔۔۔۔۔ صرف چلنا، چلتے رہنا!!!!!!!!!

            ممتاز مفتی

            Comment




            • سرکس کے جانور اور اک آزاد جانور کی چال اور عادات میں بہت فرق ہوتا ہے۔اس صورت میں جاندار اپنا دماغ استعمال نہیں کرتا بلکہ ایک مشین میں موجود فنکشن کی طرح احکامات کی تعمیل کرتا ہے۔
              اپنے آپ کو کسی سرکس میں پھنسانے سے بہتر ہے اپنے آزاد اندازِ فکر کے ساتھ ہی جی لیا جائے تاکہ آنے والی نسلیں غلام پیدا نہ ہوں۔
              حق و باطل کی جنگ لڑنا تو دشوار نظر آتا ہے لیکن اس مشکل کو برداشت کرنے کا پھل ہماری آنے والی نسل کھا سکتی ہے۔
              کبھی بھی کسی مشکل اور دشواری کے سامنے ماتھہ ٹیکنے سے پہلے اپنے آپ کو ویلیو دینا سیکھیں ورنہ ہم سرکس کے جانور ہی پیدا کرتے رہیں گے اور لوگوں کے اشاروں پر ہی ناچتے رہیں گے۔

              ساقی علی کی کتاب "چیختی خاموشی" سے اقتباس

              Comment




              • "اللہ کی محبت کے سوا ہر محبت کو زوال ہے۔رب سوہنے کی محبت کے علاوہ دنیا کی کوئی محبت سچی نہیں۔اور رب سوہنا اصلیت دکھا دیتا ہے۔ہر رشتے،ہر محبت کی۔پھر وہ سب کچھ دکھا کر آدمی سے کہتا ہے اب بتا تیرا میرے سوا اور ہے ہی کون؟"

                شہرذات

                Comment


                • ہر شخص کی زندگی میں ایسا لمحہ ضرور آتا ہے جب وہ تباہی کے دہانے پہ کھڑا ہوتا ہے اور اس کے راز کھلنے والے ہوتے ہیں اور اس وقت جب وہ خوف کے کوہ طور تلے کھڑا کپکپا رہا ہوتا ہے تو اللہ اسے بچالیتا ہے۔ یہ اللہ کا احسان ہے اور اسے اپنا ایک ایک احسان یاد ہے، ہم بھول جاتے ہیں، وہ نہیں بھولتا۔ تم اپنے حل ہوئے مسئلوں کے لئے اس کا شکر ادا کیا کرو جو ساری زندگی تمہارے مسئلے حل کرتا آیا ہے، وہ آگے بھی کردے گا۔ تم وہی کرو جو وہ کہتا ہے، پھر وہ وہی کرے گا جو تم کہتے ہو۔
                  (نمرہ احمد کے ناول ’’جنت کے پتے‘‘ سے اقتباس)

                  Comment



                  • آہستہ آہستہ اسے احساس ہوا کہ وہ کتنا غلط قرآن پڑھتی تھی۔ الفاظ کو مجہول ادا کرتی تھی۔
                    مثلاً بِ (با زیر) بی ہوتا ہے، مگر وہ با زیر 'بے' پڑھتی تھی۔ اور یہ ساری امیاں، نانی دادیاں جو ہمیں قرآن سکھاتی ہیں، وہ عموماً غلط تلفظ سے مجہول ہی پڑھتی ہیں۔ س ، ص اور ث کا فرق ہی نہیں پتا چلتا۔ جب ہم زیر زبر کو بہت لمبا کرتے ہیں تو ہمیں احساس ہی نہیں ہوتا کہ ہم قرآن میں ایک حرف کا اضافہ کر رہے ہیں۔ زبر کو کھینچ کر ایک حرف کا اضافہ کر رہے ہیں۔ قرآن میں تحریف کر رہے ہیں۔ معانی بدل رہے ہیں۔ انگریزی کو تو خوب برٹش اور امریکن لہجے میں بولنے کی کوشش کرتے ہیں اور قرآن جس کو عربی لہجے میں پڑھنے کا حکم ہے اور جس میں زیر زبر کو اصل سے زائد کھینچنا بھی حرام کی غلطی شمار ہوتا ہے، اس کے سیکھنے کو اہمیت ہی نہیں دیتے۔
                    مصحف

                    Comment


                    • ہمیں چھوڑ جانے سے چند روز قبل ممتاز مفتی مجھ سے کہنے لگے ’’یار عکسی ترے لوک ورثہ کا فائدہ؟‘‘ ’’یار ! یاد رکھنا جب میں مر جاوں تو دو شہنائیوں والے اور ایک ڈ ھول والے کو بلوا لینا اور گھر کے باہر خوب شادیانے بجانا۔خوشی منانا۔وعدہ کر یار ایسا ہی کروگے‘‘۔ والد سے کیا ہوا وعدہ تو میں نہ نبھا سکا، لیکن آج اتنا ضرور عرض کروں گا کہ ہمیں مفتی کا سوگ نہیں منانا چاہیے بلکہ انہیں سیلیبریٹ کرنا چاہیے۔ مجھے یہ زعم تھا کہ ممتاز مفتی کے تمام رفقاء کو ذاتی طور پر جانتا پہچانتا ہوں اور پھر ان میں سے بیشتر تو میرے دوست بھی ہیں ،لیکن یہ زعم ان کی وفات پر پاش پاش ہوگیا۔سینکڑوں ہزاروں لوگ نہ جانے کہاں کہاں سے امڈ پڑے اچھے خاصے عمر رسیدہ لوگ دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے کچھ چیخ چیخ کر پکار رہے تھے باپو !باپو ! میں یتیم ہوگیا۔ میں حیرت سے ان سب کو دیکھ رہا تھا۔یہ کون ہے ،کہاں سے آیا ہے ،یہ کیونکر یتیم ہوگیا ،میں سوچتا رہا۔ میرا خیال تھا لوگ آئیں گے مجھے سہارا دیں گے۔گلے لگائیں گے ،دلاسہ دیں گے ، غم بانٹیں گے الٹا مجھے ا ن سب کا دکھ بانٹنا پڑ گیا اور وہ مولوی حضرات ، جنہوں نے ’’لبیک‘‘کے چھپنے پر مفتی جی کے خلاف فتویٰ جاری کیا وہ کون ہے جو بیت المکرم کو کلال کوٹھا کہتا ہے اس کی یہ جسارت کہ حج کا تمسخر اڑائے کہ کو ٹھے والا مجھے آنکھیں مار رہا ہے ، ان ہی میں سے ایک مولانا ، ممتاز مفتی کے قلم کو اسلام کی تلوار سے تشبیہ دینے لگے۔ میں حیرت سے سنتا رہا۔ اس موقع پر جیب کترے بھی پیچھے نہیں رہے ، جیب کتروں کا ایک پورا گروہ جنازے کے دوران ممتاز مفتی کے پرستاروں کو لوٹتا رہا۔بہت سوں کی جیبیں کٹ گئیں۔ ایک صاحب جن کی جیب کٹ چکی تھی فرمانے لگے ؛ کیا مذاق ہے ۔ ممتاز مفتی جاتے جاتے بھی ہاتھ دکھا گیا پاس ہی کھڑا احمد بشیر بولا جیب نہیں اپنا دل ٹٹولیں اور کہیں میں غلط کہہ رہا ہوں ممتاز مفتی جیب کتروں کو بھی کچھ دے گیا ۔ممتاز مفتی کو بچپن سے اپنے گھر کے ماحول سے سخت نفرت تھی جب ان کے والد مفتی محمد حسین نے دوسری شادی کرلی تو ممتاز مفتی کی والدہ صغراں بی بی کی حیثیت گھر میں نوکرانی کے برابر رہ گئی۔اپنے والد کے خلاف شدید غم و غصہ تھا۔گھر چھوڑ کر چلے گئے کتنے ہی برس ، کئی سال بیت گئے والد مفتی محمد حسین نوے برس کو پہنچے، لیکن ممتاز مفتی نہ ان سے ملے نہ کلام کیا۔ وہ ویسے ہی اگر کبھی کسی سے روٹھ جاتے تو برسوں بات نہ کرتے بہت غصے والے تھے ، بڑی بڑی خطائیں معاف کر دیتے لیکن کسی چھوٹی سی بات پر روٹھ جایاکرتے۔ ایف اے اور بی اے میں انگریزی امتحان میں ہمیشہ فیل ہوتے رہتے کہتے تھے تعلیم نے میرا کچھ نہیں بگاڑا لیکن بطور انگلش ٹیچر ملازم ہوگئے چالیس روپے تنخوہ پائی۔ باپ انسپکٹر آف سکولز تھا کسی نے یونہی چھیڑ دیا مفتی سفارشی ہے باپ نے کہلا بھیجا گھر واپس آجائو، بس اسی دن سکول سے استعفیٰ دے دیا اور نوکری چھوڑ کر چلے گئے۔ممتاز مفتی باغی تھے والد ، گھر بار ،عزیز و اقارب سب کو چھوڑ چکے تھے کسی رشتہ دار کی جرأت نہ تھی کہ ممتاز مفتی کو ملے۔مجھ سے بہت پیارکرتے تھے۔جس قدر باپ سے نفرت تھی اسی قدر مجھ سے پیار تھا کہتے دیکھو اچھی ! نہ تمہار کوئی تایا ہے نہ پھوپھا ،نہ ماما ہے نہ چاچا ، بس ایک میں ہوں تمہارا ابا۔ میں ہی تمہارا دوست ہوں اور میرے سب دوست بھی تمہارے دوست ہیں ۔ پھر ممتاز مفتی مجذوب ہوگئے۔شکر ہے خدا کا کہ پورے پورے مجذوب نہ ہوئے۔ اسی دور میں ممتاز مفتی نے لبیک اور الکھ نگری جیسا ادب تخلیق کیا۔ خانہ کعبہ کو کالا کوٹھا یا اللہ کو کوٹھے والے سے تشبیہ دینا کسی مجذوب کی تحریر تو ہوسکتی ہے ہوشمند ادیب کی نہیں۔ اور مجذوب ہی کو یہ قبولیت حاصل ہوتی ہے کہ وہ ایسی گستاخانہ باتیں لکھے اور صاف بچ نکلے۔ آپ اور میں پورے ہوش میں ایسی تحریر نہیں لکھ سکتے پھر ایک دن قدر ت اللہ شہاب چل بسے ۔ممتاز مفتی کے خواب ادھورے رہ گئے ۔عقیدت کے وہ تانے بانے جو ممتاز مفتی نے قدرت کی ذات کے گرد بن رکھے تھے ٹوٹ گئے ۔نئے محل وقوع نئے جہت ہو گئے وہ اجلی کرن پاکستان کا عروج جس کا ممتاز مفتی کو یقین تھا کہ وہ ان کی زندگی ہی میں حقیقت بن جائے گی بکھر کر رہ گئی ۔ممتاز مفتی کا مداوا چھن گیا۔ قدرت کے مرنے کے چند ہی سال بعد ممتاز مفتی کا محبوب بیٹا عکسی مفتی گھر چھوڑ کر چلا گیا ،عکسی نے دوسری شادی کرلی۔ممتاز مفتی کو دوسری شادی سے چڑ تھی۔ اس نے اپنے والد کو معاف نہیں کیا تھا۔بیٹا دوسری کرتے ہی گھر چھوڑ گیا تو ممتاز مفتی بالکل تنہا رہ گیا ، تن تنہا اس کی نفرت بے معنی ہو کر رہ گئی۔اس کی موج در موج اور عقیدت کا نہ کوئی ساحل رہا نہ کنارہ۔ وہ اکیلا تنہاچپو مار مار کر اپنی کشتی ٹھیلتا رہا۔ اس میں اب بھی زندگی کی امنگ باقی تھی۔ آخری سانس تک ممتاز مفتی کی آنکھوں میں چمک تھی، قلم میں تلوار جیسی کاٹ تھی۔ وہ علی پور کا ایلی تھا ہار ماننا اس کا شیوہ نہیں تھا.....

                      Mamtaz mufti

                      Comment



                      • “غلامی اور بطور خاص ذہنی غلامی قوموں سے فیصلے کی قوت چھین لیتی ہے، پھر ان کا ہر فیصلہ مستعار ہوتا ہے۔”

                        جون ایلیا۔
                        فرنود۔

                        Comment



                        • منافق جب کسی کو گرانا چاہتا ہے تو اسے دھکا نہیں سہارا دیتا ہے ـــــ

                          Comment


                          • نماز اور قرآن بعض دفعہ آپ کے حالات تو نہیں بدلتے ، مگر آپ کو ان حالات میں اچھے طریقے سے رہنا سکھا دیتے ہیں...آزمائشیں صرف دین پہ چلنے سے نہیں آتیں، بلکہ جو آزمائشیں اور مصائب آپ کے لئے لکھ دئیے گئے ہیں، وہ آپ کو مل کر ہی رہیں گے.قرآن سے دوری سے اتنا ہو گا کہ وہ مصائب آپ کو پاگل کر دیں گے اور قرآن کا قرب آپ کو ہر مشکل سے نکلنے کا راستہ دکھاتا رہے گا.!

                            نمرہ احمد کے ناول مصحف کے پیش لفظ سے.

                            Comment


                            • شحصیت پرستی ،بت پرستی سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے
                              بت کا دماغ نہیں ہوتا جو خراب هو جب کے انسان فرعون بن جاتا ہے ۔
                              امام غزالی

                              Comment

                              Working...
                              X