Announcement

Collapse
No announcement yet.

جنت کے پتے - Jannat key pattey

Collapse
X
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • جنت کے پتے - Jannat key pattey

    جنت کے پتے ناول اقتباسات


    ''حیا! قرآن اور نماز، یہ دو وہ چیزیں ہیں جو ہر انسان کو اپنے لیے خود ہی کرنی ہوتی ہیں۔ یہ کبھی کوئی دوسرا آپ کے لیے نہیں کر سکتا۔
    لیکن میں تمہیں قرآن کی کچھ پہیلیاں بتا سکتا ہوں جو بہت سے لوگوں نے حل کی ہیں، جیسے۔۔۔۔ جیسے۔۔۔۔ جیسے تم نے سورہ الفلق تو پڑھی ہو گی۔''
    ''اوہ جہان! کس کو الفلق اور الناس زبانی یاد نہیں ہوں گی؟''

    ''اوکے، پھر الفلق کی تیسری آیت یاد کرو، و من شر غاسق اذا وقب۔ اس آیت کا ترجمہ ہمارے ہاں عموما یوں کیا جاتا ہے کہ میں (پناہ مانگتا ہوں) رات کے شر سے' جب وہ چھا جاتی ہے''

    ''یعنی کہ ''غاسق'' کے شر سے پناہ مانگی گئی ہے یہاں۔ غاسق کا مطلب ہوتا ہے اندھیرا کرنے والا ' یعنی کہ رات _ لیکن ....'' وہ لمحے بھر کو ٹھہرا_''غاسق کا ایک اور مطلب بھی ہوتا ہے، وہ مطلب جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غاسق کے لیے استعمال فرمایا تھا۔ کیا تم وہ مطلب جانتی ہو؟''
    ''نہیں_''

    ''میں تمہیں اس کا دوسرا مطلب بتاتا' بلکہ دکھاتا ہوں_ ادھر آؤ !'' وہ اٹھا_وہ اس کے پیچھے کھڑی ہوئی_ وہ اس کے آگے چلتا اپنے کمرے میں واپس آیا اور دروازہ بند کیا۔

    ''وہ ہے غاسق !''حیا نے اس کی انگلی کے تعاقب میں دیکھا _ وہاں سیاہ آسمان پہ چاندی کی ایک ٹکیہ جگمگا رہی تھی_
    ''چاند ؟ غاسق کا دوسرا مطلب چاند ہوتا ہے؟''
    ''چاند کے شر سے پناہ مگر چاند میں کون سا شر ہوتا ہے؟''یہ بات ابھی تک اس کی سمجھ میں نہیں آئی تھی۔

    ''ہر چیز میں خیر اور شر دونوں ہوتے ہیں_ چاند بہت پیارا' بہت خوبصورت ہے لیکن تم نے کبھی دیکھا ہے ' سمندر کی لہروں کا مد و جزر؟''

    ''چاند کھنچتا ہے ان لہروں کو ' چاند میں بہت کشش ہوتی ہے_''
    ''مگر وہ سمندر کی بات ہے'اس کا انسان سے کیا تعلّق؟''

    ''حیا ... چاند سمندر کو نہیں چاند پانی کو کھینچتا ہے چاند '' ہر'' پانی کو کھینچتا ہے_ اور ...'' اس نے ایک انگلی سے حیا کی کنپٹی کو چھوا۔ ''ادھر تمھارے دماغ میں بھی fluids ہوتے ہیں ' پانی ہوتا ہے ' چاند اس کو بھی کھینچتا ہے _ جن لوگوں کا دماغی نظام غیر متوازن ہو جاتا ہے ' وہ پاگل کہلاتے ہیں ' اور پاگل کو ہم انگریزی میں کیا کہتے ہیں ؟''
    '' چاند کو ہم luna کہتے ہیں' اور پاگل کو lunatic کہتے ہیں_چاند اور دماغی امراض کا گہرا تعلّق ہوتا ہے۔ یہ انسان کے حواس پہ اثر انداز ہوتا ہے۔ اس لیے جو لوگ مرض عشق میں مبتلا ہوتے ہیں، یا شاعر وغیرہ، وہ چاند کا ذکر بہت کرتے ہیں_چاند بہت خوبصورت ہے، یہ اندھرے میں ہمیں راستہ دکھاتا ہے۔ اس کی خیر ہمیں سمیٹنی چاہیئے ، مگر اس کے شر سے پناہ مانگنی چاہیئے۔ کیا اب تم مانتی ہو کہ قرآن کی پہیلیاں زیادہ گہری ہوتی ہیں؟''
    جنت کے پتے
    Never stop learning
    because life never stop Teaching

  • #2
    ’’سچے دل سے توبہ کرو تو گناہ نہیں آتے پیچھے!‘‘
    اس نے تار پہ عبایا پھیلایا، اور پھر ان کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔ وہ اب مشین سے گیلے کپڑے نکال رہی تھیں۔ کنکھیوں سے اسے اپنا عبایا ہوا سے پھڑپھڑاتا دکھائی دے رہا تھا۔
    ’’مگر وہ کوفت تو دیتے ہیں نا، جیسے یہ عبایا مجھے کوفت دے رہا ہے، لگتا ہے ابھی ہوا کا تیز جھونکا آئے گا، اور یہ اڑ کر میرے سارے منظر پہ چھا کر اس کو تاریک کر دے گا!‘‘
    اس بات پہ مریم خانم ذرا سا مسکرائیں، اور ٹوکری میں سے ایک کلپ اٹھا کر عبایا کے اوپر لگا دیا۔ حیا پل بھر کو بالکل ٹھہر گئی۔

    ’’اب نہیں اڑے گا، بھلے کتنا ہی پھڑپھڑا لے! دعا بھی ایک کلپ کی طرح ہوتی ہے۔ اور یہ گناہ اس لیے یوں پھڑپھڑاتے ہیں تاکہ تم یہ یاد رکھو کہ اگر تم دوبارہ اس راستے کی طرف گئیں تو یہ کلپ ٹوٹ جائے گا اور کپڑا اڑ کر سب پہ چھا جائے گا۔ زمانہ اسلام میں آنے کے بعد جاہلیت کے سب گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، لیکن ایک دفعہ پھر غلط راستے کی طرف جانے کی صورت میں وہ پچھلے گناہ زندہ ہوجاتے ہیں، اور انسان کہ اس پرانے زمانہ جاہلیت کا بھی حساب دینا پڑتا ہے!‘‘
    ’’تو۔۔۔ تو گناہ اس لیے ہمیں دکھائی جاتے ہیں تاکہ ہم ڈرتے رہیں، اور بُرائی کی طرف دوبارہ نہ جائیں؟‘‘
    ’’ہاں، اور تاکہ ہم خوف اور امید کے درمیان اللہ تعالیٰ کو پکارتے رہیں۔ اِسی کو کہتے ہیں ایمان!‘‘
    Never stop learning
    because life never stop Teaching

    Comment


    • #3


      الجھتے ہوئے حیا نے لفافہ چاک کیا۔ اندر ایک موٹا کاغذ تھا۔ اس نے دو انگلیاں لفافے میں ڈال کر کاغذ پکڑا اور باہر نکالا۔

      سفید کاغذ کے وسط میں انگریزی میں تین لفط لکھے تھے۔

      Welcome to Sabanci

      وہ سناٹے میں رہ گئی۔ یہ کون ہو سکتا تھا؟
      Never stop learning
      because life never stop Teaching

      Comment


      • #4
        "آپ جنت کے پتے کسے کہتے ہیں؟"
        احمد نے گہری سانس لی اور کہنے لگا۔
        "آپ جانتی ہیں، جب آدم علیہ السلام اور حوا جنت میں رہا کرتے تھے، اس جنت میں، جہاں نہ بھوک تھی، نہ پیاس، نہ دھوپ اور نہ ہی برہنگی۔ تب اللہ نے انہیں ایک ترغیب دلاتے درخت کے قریب جانے سے روکا تھا، تاکہ وہ دونوں مصیبت میں نہ پڑ جائیں۔"
        وہ سانس لینے کو رُکا۔
        "اس وقت شیطان نے ان دونوں کو ترغیب دلائ کہ اگر وہ اس ہمیشگی کے درخت کو چھو لیں تو فرشتے بن جائیں گے۔ انہیں کبھی نہ پرانی ہونے والی بادشاہت ملے گی۔"
        "سو انہوں نے درخت کو چکھ لیا۔ حد پار کر لی۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو ان کو فوراً بے لباس کر دیا گیا۔ اس پہلی رسوائ میں جو سب سے پہلی شے جس سے انسان نے خود کو ڈھکا تھا، وہ جنت کے پتے تھے، ورق الجنتہ۔"
        "آپ جانتی ہیں، ابلیس نے انسان کو کس شے کی ترغیب دلا کر اللہ کی حد پار کروائ تھی؟ فرشتہ بننے کی اور ہمیشہ رہنے کی۔ جانتی ہیں حیا! فرشتے کیسے ہوتے ہیں؟"
        اس نے نفی میں گردن ہلائ، گو کہ وہ جانتی تھی کہ وہ اسے دیکھ نہیں سکتا۔
        "فرشتے خوب صورت ہوتے ہیں۔" وہ لمحے بھر کو رُکا۔ "اور ہمیشہ کی بادشاہت کسے ملتی ہے؟ کون ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتا ہے؟ وہ جسے لوگ بھول نہ سکیں، جو انہیں مسحور کر دے، ان کے دلوں پہ قبضہ کر لے۔
        خوب صورتی اور امر ہونے کی چاہ، یہ دونوں چیزیں انسان کو دھوکے میں ڈال کر ممنوعہ حد پار کراتی ہیں اور پھل کھانے کا وقت نہیں ملتا۔ انسان چکھتے ہی بھری دنیا میں رسوا ہو جاتا ہے۔ اس وقت اگر وہ خود کو ڈھکے تو اسے ڈھکنے والے جنت کے پتے ہوتے ہیں۔ لوگ اسے کپڑے کا ٹکڑا کہیں یا کچھ اور، میرے نزدیک یہ ورق الجنتہ ہیں۔"
        Never stop learning
        because life never stop Teaching

        Comment


        • #5
          bohat ala sharing.jannat ke pttey mera fvrt novel hai.shukriya share karne ka

          Comment


          • #6

            "بعض دفعہ جو ہم دیکھتے ہیں‘ وہ ہو نہیں رہا ہوتا اور جو ہو رہا ہوتا ہے‘ وہ ہم دیکھ نہیں رہے ہوتے۔"
            "ایک چیز ہوتی ہے‘ نظر کا دھوکا‘ لوگ وہ نہیں ہوتے‘ جو وہ نظر آتے ہیں اور جو وہ ہوتے ہیں‘ اسے وہ چھپا کر رکھتے ہیں۔"
            "جب تک انسان دوسرے کی جگہ پہ کھڑا ہو کر نہیں دیکھتا‘ اسے پوری بات سمجھ میں نہیں آتی۔"
            Never stop learning
            because life never stop Teaching

            Comment


            • #7


              وہ سفید موتی نہیں بن سکی تو کیا ہوا۔ سیاہ موتی بننے میں بھی کوئی حرج نہیں تھا۔ کہ پھر۔۔۔۔

              موتی تو وہ ہوتا ہے

              جس کی کالک بھی چمکتی ہے۔
              Never stop learning
              because life never stop Teaching

              Comment


              • #8


                ’’سچے دل سے توبہ کرو تو گناہ نہیں آتے پیچھے!‘‘
                اس نے تار پہ عبایا پھیلایا، اور پھر ان کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔ وہ اب مشین سے گیلے کپڑے نکال رہی تھیں۔ کنکھیوں سے اسے اپنا عبایا ہوا سے پھڑپھڑاتا دکھائی دے رہا تھا۔
                ’’مگر وہ کوفت تو دیتے ہیں نا، جیسے یہ عبایا مجھے کوفت دے رہا ہے، لگتا ہے ابھی ہوا کا تیز جھونکا آئے گا، اور یہ اڑ کر میرے سارے منظر پہ چھا کر اس کو تاریک کر دے گا!‘‘
                اس بات پہ مریم خانم ذرا سا مسکرائیں، اور ٹوکری میں سے ایک کلپ اٹھا کر عبایا کے اوپر لگا دیا۔ حیا پل بھر کو بالکل ٹھہر گئی۔

                ’’اب نہیں اڑے گا، بھلے کتنا ہی پھڑپھڑا لے! دعا بھی ایک کلپ کی طرح ہوتی ہے۔ اور یہ گناہ اس لیے یوں پھڑپھڑاتے ہیں تاکہ تم یہ یاد رکھو کہ اگر تم دوبارہ اس راستے کی طرف گئیں تو یہ کلپ ٹوٹ جائے گا اور کپڑا اڑ کر سب پہ چھا جائے گا۔ زمانہ اسلام میں آنے کے بعد جاہلیت کے سب گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، لیکن ایک دفعہ پھر غلط راستے کی طرف جانے کی صورت میں وہ پچھلے گناہ زندہ ہوجاتے ہیں، اور انسان کہ اس پرانے زمانہ جاہلیت کا بھی حساب دینا پڑتا ہے!‘‘
                ’’تو۔۔۔ تو گناہ اس لیے ہمیں دکھائی جاتے ہیں تاکہ ہم ڈرتے رہیں، اور بُرائی کی طرف دوبارہ نہ جائیں؟‘‘
                ’’ہاں، اور تاکہ ہم خوف اور امید کے درمیان اللہ تعالیٰ کو پکارتے رہیں۔ اِسی کو کہتے ہیں ایمان!‘‘
                Never stop learning
                because life never stop Teaching

                Comment


                • #9


                  وہ پارلر کے ڈریسنگ مرر کے سامنے کرسی پہ بیٹھی تھی، اور بیوٹیشن لڑکی مہارت سے اس کا آئی شیڈو لگا رہی تھی۔ اس نے اپنا گرے اور سلور فراک پہن رکھا تھا، بال وغیرہ ابھی بنانے تھے۔
                  ’’اونچا جوڑا بنائیں گی کیا؟‘‘ بیوٹیشن نے آئی شیڈو کو آخری ٹچ دیتے ہوئے پوچھا تھا۔ حیا نے آئینے میں چہرہ دائیں بائیں کر کے آنکھیں دیکھیں۔ اچھی لگ رہی تھیں۔

                  ’’اونہوں۔ فرنچ ناٹ بنا دو۔ اونچے جوڑے میں تو نماز نہیں ہو گی اور دو تین نمازیں تو فنکشن کے دوران آ جائیں گی۔‘‘
                  ’’آج نہ پڑھیں تو خیر ہے۔‘‘ لڑکی اکتائی تھی۔

                  ’’اپنی خوشی میں اللہ کو ناراض کر دوں؟ انہوں!‘‘ اس نے نفی میں سرہلایا۔
                  ’’اچھا نیل پالیش لگانی ہے یا نقلی نیلز؟‘‘

                  ’’کچھ بھی نہیں، بار بار وضو کے لیے اتاروں گی کیسے؟‘‘ اس نے سادگی سے الٹا سوال کیا۔
                  ’’اوہ ہو۔۔۔ اچھا نقلی پلکیں تو لگا دوں نا؟‘‘

                  ’’اللہ تعالیٰ کو بُرا لگے گا۔‘‘
                  ’’آپ نے آئی بروز بھی نہیں بنائیں، تھوڑا سا نیٹ ہی کر دوں!‘‘

                  ’’اللہ تعالیٰ کو اور بھی بُرا لگے گا۔‘‘
                  لڑکی کے ضبط کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ وہ گھوم کر اس کے سامنے آئی۔

                  ’’آپ کہیں الہدیٰ کی تو نہیں ہیں؟‘‘
                  حیا ہنس دی۔

                  ’’نہیں، میں بس ایک مسلمان لڑکی ہوں ، اور یہ سوچ رہی ہوں کہ جب میں تمہیں اپنا دوپٹہ سیٹ کرنے کو کہوں گی، تو تمہاری کیا حالت ہو گی؟‘‘ وہ جیسے سوچ کر ہی محظوظ ہوئی
                  Never stop learning
                  because life never stop Teaching

                  Comment


                  • #10

                    ''تمہیں پتا ہے عائشے! جب میں چھوٹی تھی نا، دس، گیارہ سال کی، تب مجھے اسکارف پہننے کا بہت شوق تھا۔ میرے ابا اور تایا فرقان دونوں مجھے اکثر سر ڈھانپنے کو کہا کرتے تھے۔ انہیں ایسے بہت اچھا لگتا تھا۔ میری اماں بھی چاہتی تھین کہ میں سر ڈھکا کروں، تاکہ میرے چہرے پہ نور آ جائے اور میں اللہ تعالیٰ کے بہت قریب ہو جاوٓں۔ انہوں نے مجھے قرآن حفظ کرنے کے لیے ایک اسلامک اسکول میں بھی داخل کرایا، مگر میں وہاں سے تیسرے روز ہی بھاگ آئی۔ تب میرا اسکارف پہننے کو بہت دل چاہتا تھا۔''
                    ''تو کیوں نہیں لیا؟''
                    ''مجھے آہستہ آہستہ سمجھ آ گئی کہ میرا فیس کٹ ایسا ہے کہ میں اسکارف میں اچھی نہیں لگوں گی۔''
                    ''کس کو؟''
                    ''ہاں؟''
                    ''تم کس کو اسکارف میں اچھی نہیں لگو گی؟''
                    ''لوگوں کو۔''
                    ''اور۔۔۔۔؟''
                    ''اور کیمرے کو۔ مثلاً تصویرون میں۔''
                    ''اور؟''
                    ''اور خود کو۔''
                    ''اور اللہ تعالیٰ کو؟''
                    ''ہو سکتا ہے تم اللہ تعالیٰ کو اسکارف میں بہت اچھی لگتی ہو۔'' وہ یک دم بالکل سن ہوئی عائشے کو دیکھے گئی۔
                    Never stop learning
                    because life never stop Teaching

                    Comment


                    • #11

                      ''ہمیں اللہ تعالیٰ کو اپنی کسی بھی سچویشن کی وضاحت دینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ ہمارے حالات ہم سے زیادہ اچھے طریقے سے سمجھتا ہے۔ اس کی شریعت بھلے کتنی بھی سخت ہے، مگر اندھی نہیں ہے۔''
                      Never stop learning
                      because life never stop Teaching

                      Comment


                      • #12



                        ''عائشے کے موتی سفید نکلتے ہیں۔ سفید ہوتا ہے پاکیزگی، معصومیت، نیکی کی علامت۔ مگر میرا موتی سیاہ رنگ کا نکلا۔ بہت سے سفید موتیوں میں کسی ugly duckling کی طرح''

                        ''واقعی، سیاہ تو برائی کا رنگ ہوتا ہے۔ جادو کی سب سے بری قسم سیاہ جادو کہلاتی ہے۔ گناہوں سے بھرا دل سیاہ ہوتا ہے، گناہگاروں کے چہرے سیاہ ہوں گے روز قیامت۔''
                        ''اور تم نے اس سے یہ اخذ کیا کہ سیاہ رنگ ایک برا رنگ ہے؟ اونہوں۔''

                        ''سیاہ وہ رنگ ہے جو دھنک کے سارے رنگ اپنے اندر جذب کر لیتا ہے۔ یہ ایک ڈارک رنگ ہے، اور ڈارک برے کو نہیں، ڈیپ (گہرے) کو کہتے ہیں۔ سارے رنگ اس میں مدفن ہیں اور وہ ان کو کسی راز کی طرح چھپائے رکھتا ہے۔ وہ جو گہرا ہوتا ہے، ہاں وہ سیاہ ہوتا ہے۔ ٹھیک ہے، سیاہ رات میں گناہ کیے جاتے ہیں، مگر بے ریا عبادت بھی رات کی سیاہی میں کی جاتی ہے۔ کالا جادو، کالا اسی لیے کہلاتا ہے کہ یہ سفید جادو سے گہرا ہوتا ہے۔ یہ گہرائی کا رنگ ہے۔ دیرپا ہونے کا رنگ۔ اسی لیے کعبہ کا غلاف سیاہ ہوتا ہے۔ آسمان کا رنگ بھی تو سیاہ ہے۔ بارش کے قطرے اپنے اندر سموئے بادل بھی تو کالے ہوتے ہیں، قرآن کے لفظ بھی تو عموماً سیاہ روشنائی مین لکھے جاتے ہیں، اور۔۔۔۔

                        اور تمہارا برقع بھی تو سیاہ ہے نا!''
                        Never stop learning
                        because life never stop Teaching

                        Comment


                        • #13


                          ’’سچے دل سے توبہ کرو تو گناہ نہیں آتے پیچھے!‘‘
                          اس نے تار پہ عبایا پھیلایا، اور پھر ان کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔ وہ اب مشین سے گیلے کپڑے نکال رہی تھیں۔ کنکھیوں سے اسے اپنا عبایا ہوا سے پھڑپھڑاتا دکھائی دے رہا تھا۔
                          ’’مگر وہ کوفت تو دیتے ہیں نا، جیسے یہ عبایا مجھے کوفت دے رہا ہے، لگتا ہے ابھی ہوا کا تیز جھونکا آئے گا، اور یہ اڑ کر میرے سارے منظر پہ چھا کر اس کو تاریک کر دے گا!‘‘
                          اس بات پہ مریم خانم ذرا سا مسکرائیں، اور ٹوکری میں سے ایک کلپ اٹھا کر عبایا کے اوپر لگا دیا۔ حیا پل بھر کو بالکل ٹھہر گئی۔

                          ’’اب نہیں اڑے گا، بھلے کتنا ہی پھڑپھڑا لے! دعا بھی ایک کلپ کی طرح ہوتی ہے۔ اور یہ گناہ اس لیے یوں پھڑپھڑاتے ہیں تاکہ تم یہ یاد رکھو کہ اگر تم دوبارہ اس راستے کی طرف گئیں تو یہ کلپ ٹوٹ جائے گا اور کپڑا اڑ کر سب پہ چھا جائے گا۔ زمانہ اسلام میں آنے کے بعد جاہلیت کے سب گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، لیکن ایک دفعہ پھر غلط راستے کی طرف جانے کی صورت میں وہ پچھلے گناہ زندہ ہوجاتے ہیں، اور انسان کہ اس پرانے زمانہ جاہلیت کا بھی حساب دینا پڑتا ہے!‘‘
                          ’’تو۔۔۔ تو گناہ اس لیے ہمیں دکھائی جاتے ہیں تاکہ ہم ڈرتے رہیں، اور بُرائی کی طرف دوبارہ نہ جائیں؟‘‘
                          ’’ہاں، اور تاکہ ہم خوف اور امید کے درمیان اللہ تعالیٰ کو پکارتے رہیں۔ اِسی کو کہتے ہیں ایمان!‘‘
                          Never stop learning
                          because life never stop Teaching

                          Comment


                          • #14


                            الجھتے ہوئے حیا نے لفافہ چاک کیا۔ اندر ایک موٹا کاغذ تھا۔ اس نے دو انگلیاں لفافے میں ڈال کر کاغذ پکڑا اور باہر نکالا۔

                            سفید کاغذ کے وسط میں انگریزی میں تین لفط لکھے تھے۔

                            Welcome to Sabanci

                            وہ سناٹے میں رہ گئی۔ یہ کون ہو سکتا تھا؟
                            Never stop learning
                            because life never stop Teaching

                            Comment


                            • #15


                              اس نے انگلی کی نوک سے آنکھ کا بھیگا گوشہ صاف کیا اورالماری کی طرف بڑھ گئی۔ آنے صبح سے تیاری میں لگی تھیں۔ وہ بہت خوش تھیں، سو اسے بھی اب تیاری مکمل کرلینی چاہیے۔

                              رہی محبت۔۔۔ تو وہ اچھی لڑکیوں کو بھی ہوہی جاتی ہے، لیکن جب انہیں یہ پتا چل جائے کہ وہ محبت انہیں مل ہی نہیں سکتی، تووہ خاموش رہتی ہیں۔ اچھی لڑکیاں خاموش ہی اچھی لگتی ہیں۔
                              Never stop learning
                              because life never stop Teaching

                              Comment

                              Working...
                              X