Announcement

Collapse

Important Information

Assalamo Allaikum

Pegham is being relocated from it's current hosts to another host. This will disrupt services, until the new setup is ready.

The new setup will be a changed one: A new face and a new site, with forum as it is. So stay tuned and see the new site.

Admin
See more
See less

Ashfaq Ahmed Quotes - اشفاق احمد کے اقوال

Collapse
X
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • #16


    سکون کے دروازے پر بھکاری کی طرح کبھی نہ جانا ، بادشاہ کی طرح جانا ۔۔۔۔ جھومتے جھامتے دیتے بکھیرتے ۔۔۔۔ کیا تم کو معلوم نہیں کہ بھکاریوں پر ہر دروازہ بند ہو جاتا ہے ۔۔۔

    اشفاق احمد

    Comment


    • #17


      مجھے معلوم ہے آپ کو مسرت اور سکون کی تلاش ہے لیکن سکون تلاش سے کس طرح مل سکتا ہے - سکون اور آسانی تو صرف ان کو ملتی ہے جو آسانیاں تقسیم کرتے ہیں ، جو مسرتیں بکھیرتے پھرتے ہیں - اگر آپ کو سکون کی تلاش ہے تو لوگوں میں سکون تقسیم کرو تمہارے بورے بھرنے لگیں گے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ طلب بند کردو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ دولت صرف دینے سے
      -بڑہتی ہے- احمقوں کی طرح بکھیرنے پھرنے سے اس میں اضافہ ہوتاہے
      اللہ سائیں کے طریق نرالے ہیں - سکون کے دروازے پر بھکاری کی طرح کبھی نہ جانا ، بادشاہ کی طرح جانا ، جھومتے جھامتے ، دیتے بکھیرتے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا تم کو معلوم نہیں کہ بھکاریوں پر ہر دروازہ بند ہو جاتا ہے اور بھکاری کون ہوتا ہے وہ جو مانگے ، جو صدا دے ، جو تقاضا کر ے ، اور شہنشاہ کون ہوتا ہے جو دے عطا کرے ، لٹاتا جائے - پس جس راہ سے بھی گذرو بادشاہوں کی طرح گذرو ، شہنشاہوں کی طرح گذرو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دیتے جاؤ دیتے جاؤ - غرض و غایت کے بغیر - شرط شرائط کے بغیر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

      Comment


      • #18


        اشفاق احمد صاحب کی زاویہ سے ایک اقتباس
        ۔
        ایک دن میں اپنے پوتے سے کہ رہا تھا کہ بلال میاں میں اپنے الله کو مان کے مرنا چاہتا ہوں
        وہ کہنے لگا کہ بابا تم تو بہت اچھے آدمی ہو
        میں نے کہا نہیں مجھے میرے ابّا جی نہ کہا تھا کہ ایک الله ہوتا ہے - میں نے یہ بات مان لی اور الله کوئی ماننے لگا -
        میں الله کو خود سے ڈائریکٹ ماننا چاہتا ہوں - بس خدا پر یقین کی ضرورت ہے ، میرے ابّا جی بتایا کرتے تھے کہ ایک دن ان کے ہاں دفتر میں کام کرنے والے ملازم کی تنخواہ چوری ہو گئی تو سب نے کہا کہ یار بڑا افسوس ہے - تو وہ کہنے لگے کہ خدا کا شکر ہے نوکری تو ہے
        ایک ماہ بعد خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ اس کی نوکری بھی چلی گئی. لوگوں اور ابا جی نے ان سے افسوس کیا تو کہنے لگے جی خدا نے اپنا گھر دیا ہے ، اندر بیٹھ کر اچار روٹی کھالیں گے - الله کا فضل ہے - پرواہ کی کوئی بات نہیں -
        یہ خدا کی طاقت تھی -
        مقدمے بازی میں کچھ عرصے بعد اس کا گھر بھی فروخت ہو گیا -وہ پھر بھی کہنے لگا کہ فکر نہیں میرے ساتھ میری بیوی ہے - یہ بیالیس سال کا ساتھ ہے -
        بیوی فوت ہوئی تو اس نے کہا کہ کوئی بات نہیں میں تو زندہ سلامت ہوں - تندرست ہوں
        وہ شوگر کا مریض تھا اس کی ایک ٹانگ کٹ گئی - میرے والد نے کہا کہ بہت برا ہوا -
        اس نے کہا ڈاکٹر صاحب ایک ٹانگ تو ہے -
        بیماری بڑھنے کے بعد اس کی دوسری ٹانگ بھی کٹ گئی -
        میرے والد بتاتے ہیں کہ جب وہ فوت ہوا تو اس نے اپنے بہو سے کہا کہ بیٹا کمال کا بستر ہے جس پر میں فوت ہو رہا ہوں - کیا خوبصورتی سے اس چارپائی کی پائینتی کسی ہوئی ہے - مزہ آ رہا ہے - ایسی طاقت اور قناعت پسندی کی ضرورت ہے ایسی طاقت اس وجہ سے حاصل ہوتی ہے کہ وہ دوسروں کے لیے اپنا کندھا ، بازو یا صرف کان کھلا رکھتے ہیں اور لوگوں کو سہارا مہیا کرتے ہیں

        الله تعالیٰ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے - آمین
        از اشفاق احمد زاویہ.
        اللہ سے دعا ھے۔
        کہ اللہ ھمیں قناعت پسند دل دے۔
        امین

        Comment


        • #19
          وہ محبت ہی نہیں جو اُداس نہ کرے ۔۔۔۔۔

          اشفاق احمد

          Comment


          • #20


            اکثر لوگوں میں تکبر ہوتا ہے ، مگر اُن کا نفس اُن کو پتا نہیں چلنے دیتا ۔۔۔

            اشفاق احمد
            ( بابا صاحبا )

            Comment


            • #21


              بہت سے لوگ ہر وقت مصیبت میں گھرے رهتے ہیں خاص طور پر ان کے معاملات لوگوں کے ساتھ بری طرح سے پھنس جاتے ہیں - آپ دیکھیں گے کہ آپ کے بہت سے مسائل غلط قسم کے لوگوں کے ساتھ رابطہ رکھنے کی وجہ سے ہیں پھر آپ کو ایک اور حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا کہ آپ کے اندر ایک غلط قسم کی چیز ہے جو غلط قسم کے لوگوں کو آپ کی طرف متوجہ کرتی ہے اب یہ وہ سخت مقام ہے جہاں آپ کو امانت داری کے ساتھ نشترزنی کرنی ہے اور اپنی ذات کے ساتھ رعایت کئے بغیر معاملے کی تحقیق کرنی ہے جس بد قسمتی کو اچھی طرح سے سمجھ لیا جائے پھر وہ بد قسمتی نہیں رہتی

              از اشفاق احمد بابا صاحبا

              Comment


              • #22
                مجھے یاد ہے ایک دفعہ میرے مرشد سائیں فضل شاہ صاحب گوجرانوالہ گئے ، میں بھی ان کے ساتھ تھا - ہم جب پورا دن گوجرانوالہ میں گزار کر واپس آ رہےتھے تو بازار میں ایک فقیر ملا ، اس نے بابا جی سے کہا کچھ دے الله کے نام پر -
                انھوں نے اس وقت ایک روپیہ بڑی دیر کی بات ہے ، ایک روپیہ بہت ہوتا تھا - وہ اس کو دیا وہ لے کر بڑا خوش ہوا ، دعائیں دیں ، اور بہت پسند کیا بابا جی کو -

                بابا جی نے فقیر سے پوچھا شام ہو گئی ہے کتنی کمائی ہوئی ؟ فقیر ایک سچا آدمی تھا اس نے کہا ١٠ روپے بنا لیے ہیں تو دس روپے بڑے ہوتے تھے -
                تو بابا جی نے فقیر سے کہا تو نے اتنے پیسے بنا لیے ہیں تو اپنے دیتے میں سے کچھ دے - تو اس نے کہا بابا میں فقیر آدمی ہوں میں کہاں سے دوں -
                انھوں نے کہا ، اس میں فقیر امیر کا کوئی سوال نہیں جس کے پاس ہے اس کو دینا چاہیے تو اس فقیر کے دل کو یہ بات لگی -
                کہنے لگا اچھا - وہاں دو مزدور کدالیں کندھے پر ڈالے گھر واپس جا رہے تھے - تو وہ فقیر بھاگا گیا ، اس نے چار روپے کی جلیبیاں خریدیں ، چار روپے کی ایک کلو جلیبیاں آیا کرتی تھیں -
                اور بھاگ کے لایا ، اور آکر اس نے ان دو مزدوروں کو دے دیں - کہنے لگا ، لو ادھی ادھی کر لینا - وہ بڑے حیران ہوئےمیں بھی کھڑا ان کو دیکھتا رہا تو مزدور جلیبیاں لے کے خوش ہوئے اور دعائیں دیتے چلے گئے - بڑی مہربانی بابا تیری ، بڑی مہربانی -

                تو وہ جو فقیر تھا کچھ کھسیانا ، کچھ شرمندہ سا تھا ، زندگی میں پہلی مرتبہ اس نے خیرات دی تھی - وہ تو لینے والے مقام پر تھا تو شرمندہ سا ہو کر کھسکا -
                تو میرے بابا جی نے کہا، " اوئے لکیا کدھر جانا ایں تینوں فقیر توں داتا بنا دیتا اے ، خوش ہو نچ کے وکھا - "
                تو فقیر سے جب داتا بنتا ہے نا، تواس کا رتبہ بلند ہو جاتا ہے ، تو باہر نہیں تو اس کا اندر ضرور ناچنے لگتا ہے

                از اشفاق احمد زاویہ بابا جناح صفحہ ٢٢٢

                Comment


                • #23


                  میں اکثر دیکھتا ہوں اور تکلیف بھی ہوتی ہے - مصلاً بچیوں کی شادیاں ایک بڑا مسئلہ ہے ، اور بہت بڑا مسئلہ ہے - اس میں والدین کو بہت بڑی تکلیف ہوتی ہے ، اور وہ چاہتے ہیں کہ جلدی ہو اور یہ ہے بھی بات ٹھیک -
                  لیکن ایک مرتبہ آرزو کر چکنے کے بعد وہ پھر اتنا زور لگانا شروع کر دیتے ہیں اور اس کو الله پر چھوڑنے کے بجائے یا اس آرزو پر چھوڑنے کے بجائے جو آپ نے اپنے الله کے ساتھ باندھ دی ہے ، پھر اس میں اپنی ذات داخل کرتے رہنا ، اور آپ کی ذات اس میں داخل ہو کے کبھی بھی آپ کی مدد نہیں کر سکتی -
                  ہمارے بابے کہتے ہیں خود کو ڈھیلا چھوڑ دیں جس طرح نہر کے اوپرلکڑی تیرتی آتی ہے نا ، ہر لہر کے ساتھ کبھی اونچی ہو جاتی ہے کبھی نیچی - جب تک یہ کیفیت پیدا نہیں ہوگی ، جب تک آپ Resistance دیتے رہیں گے ، تو ناکامیوں کا منہ دیکھنا پڑیگا -

                  از اشفاق احمد زاویہ ١ انسان اور خواھش صفحہ ٢٥٥

                  Comment


                  • #24
                    ایک لڑکا آیا کرتا تھا گاچو اس کا نام تھا - ایک اس کی بہن تھی چھوٹی سی - اور وہ گاچو جو تھا سر کے اوپر ٹوکرا رکھ کے چھائیں بیچتا تھا - چھائیں تربوز کو کہتے ہیں-

                    صبح بیچارہ لے کر آتا تھا - دونوں یتیم تھے - جب دھوپ بڑہتی تھی ، جب دس بجے کے قریب ، تو سر کے اوپر ٹوکرا لے کر آتا تھا - میں اس سے (چھائیں ) ایک دو پھیکے تربوز خرید لیتا تھا -
                    تو وہ بچہ جب چل کے آتا تھا دھوپ میں تو اس کا جو سایا پڑتا تھا پیچھے ، تو وہ بھولی سی اس کی بہن وہ پیچھے پیچھے چلتی تھی - اور وہ آگے ہوتا تھا -

                    میں کہتا تھا گاچو تو اپنی بہن کو آگے کیوں نہیں چلاتا -
                    تو کہنے لگا سائیں ، ہم یتیم ہیں - ہم جھونپڑے میں رہتے ہیں تو گرمی بہت ہو جاتی ہے - میں چھوٹا بچہ ہوں - مگر میرا سایا بڑا لمبا ہے - میں چاہتا ہوں میری بہن کو گرمی نہ لگے اور وہ میرے سائے میں چلتی رہے -

                    تو یہ گاچو تھا جو اپنی بہن کو گرمی نہیں لگنے دینا چاہتا تھا مایوس ہونے کی کوئی بات نہیں - بہت سے لوگ ایسے ہیں آپ کے ملک میں جو تکبر سے دور ہیں اور دوسروں کے لئے بھی زندگی بسر کرتے ہیں -

                    از اشفاق احمد زاویہ ١ انسان کو شرمندہ نہ کیا جائے صفحہ ١٥٦

                    Comment


                    • #25

                      اپنے گھر میں داخل ہوکر اپنی آپا سے ، بیوی سے ، یا بوڑھے والدین سے آپ یہ ضرور کہا کریں چاہے چاہے کبھی کبھی ، کہ آپ بہت اچھی ہیں - مجھے بڑے ہی اچھے لگتے ہیں - آپ جن سے محبت کرتے ہوں ، انھیں ضرور بتایا کریں ، آپ مجھے اچھے لگتے ہیں - اگر آپ کسی سے کوئی ویلڈنگ کا کام کروائیں یا کسی سے اور کوئی کام کروائیں چاہے موچی سے جوتا مرمت کروائیں یا نیا " پتا " ڈلوائیں تو آپ اسے ضرور appericiate کریں -

                      ہمارے دین کی تین مضبوط بنیادیں ہیں - ایک اعتقاد ، دوسرا ایمان، اور تیسرا معاملات

                      الله کے فضل سے اعتقاد کے تو ہم بڑے پکے ہیں - عبادات بھی خوب کرتے ہیں - مساجد بھری ہوئی ہوتی ہیں - لیکن معاملات کے میدان میں ہم صفر ہیں - ہم معاملے کو جان ہی نہیں سکے - ہمیں علم ہی نہیں ہے کہ ہمارا، ہمارے پڑوسی کے ساتھ کیا رشتہ ہے - دوست سے کیا رشتہ ہے - ابا ، اماں ، بیوی ، کے ساتھ کیا رشتہ ہے یہ رشتے ٹوٹے پڑے ہیں -

                      جب تک ہم معاملات کی رسی کو ویسی مضبوطی سے نہیں پکڑیں گے ، جیسا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے اس وقت تک ہمارے بیل منڈھے نہیں چڑھے گے

                      از اشفاق احمد زاویہ ٣ ٹین کا خالی ڈبہ اور ہمارے معاملات صفحہ ١٩٢

                      Comment

                      Working...
                      X