Announcement

Collapse
No announcement yet.

Election 2018 - Meri Nazar Mein

Collapse
X
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • Election 2018 - Meri Nazar Mein

    انتخابات 2018 میرے مطابق

    بچپن میں جب ہم گلی محلوں میں گلی ڈنڈا، ہاکی یا کرکٹ وغیرہ کھیلا کرتے تھے تو جب آؤٹ ہو جاتے تھے تو رونا شروع کر دیتے تھے کہ نہیں میں آؤٹ نہیں ہوا، میں نہیں کھیلتا۔۔۔

    میں سمجھتا ہوں کہ الیکشن 2018 پاکستان کی تاریخ کے شفاف ترین انتخابات تھے۔
    اگر اس سارے معاملے میں کسی کی تذلیل کی جائے، جس پر لعنت بھیجی جائے وہ الیکشن کمیشن ہے۔

    اس میں کوئی شک نہیں کہ جب آرٹی ایس سسٹم فیل ہوا تو جیسے پاکستان میں ہر معاملے میں لاپروائی برتی جاتی ہے، اس میں بھی برتی گئی کہ چیف الیکشن کمیشنر کو خود پریس کانفرس کرنا چاہئے تھی کہ سسٹم میں خرابی ہے ہم اپنی حتمی کوشش کر رہے ہیں اسکے درست کرنے کی، یہ انہوں نے نہیں کیا اور جب پریس کانفرنس کی بھی تو کہا کہ "کیا ہوا 2 گھنٹے ہی لیٹ ہوا ہے نا" – یہ درحقیقت وہ بدبخت ترین جملہ ہے جو آپ اس صورتحال میں کہہ سکتے ہیں۔
    میں آئی ٹی سے وابستہ ہوں اور جانتا ہوں کہ جب ہم کوئی سسٹم پروڈکشن میں لاتے ہیں جس پر بہت دارومدار ہوتو اسے کئی کئی ماہ پہلے ٹیسٹ کرتے ہیں، جسے 'سٹریس ٹیسٹ' کہتے ہیں، جو کچھ سکرپٹ ہوتی ہیں جس سے بہت بڑی تعداد میں سسٹم پر لوڈ ڈالا جاتا کہ کیا سسٹم اسکو ہینڈل کر بھی سکتا ہے، مجھے نہیں یقین کہ الیکشن کمیشن نے ایسا کوئی ٹیسٹ کبھی کیا ہو۔ لاپروائی کی انتہا!
    الیکشن کمیشن کے اس فعل کی وجہ سے وہ الیکشن جو تاریخ میں لکھا جانا چاہیے تھا اسے مشکوک بنا دیا گیا۔

    یہاں ایک بات بہت ہی دلچسپ ہے کہ الیکشن سے پہلے باتیں چل رہی تھی کہ خود نون لیگ کی حکومت کی کوشش ہے کہ الیکشن نہ ہوں یا مشکوک کر دیے جائیں – وہی ہوا!

    اب آئیے نتائج کی جانب:
    پی ٹی آئی اس الیکشن میں سب سے بڑی پارٹی بن کر سامنے آئی ہے گوکہ انکی کامیابی پر روایتی پارٹیوں نے رونا دھونا ڈال دیا ہے کہ ہم ہارے تو ہارے کیسے؟
    آئیے کچھ نتائج پر غور کرتے ہیں، سب سے پہلے کراچی!

    کراچی میں جو بھی نتیجہ سامنے آیا ہے میرے ذاتی خیال کے مطابق سو فیصد درست آیا ہے کیوں؟
    دنیا اس وقت سوشل میڈیا کی وجہ سے ایک گلوبل ویلج بن چکا ہے اور میڈیا کی آزادی اور زبردست کورج کی وجہ سے وہ حقائق جو سیاسی پارٹیاں عوام سے چھپاتی چلی آ رہی تھیں وہ اب خفیہ نہیں رہے۔ دنیا جان چک کس طرح پی پی پی عزیربلوچ سے قتل کرواتی رہے ہے، کیسے راؤانوار کو پولیس میں بھرتی کر کے انسانیت کا قتل اپنے مقاصد کے لیے کرواتی رہے ہے۔
    دنیا جان چکی ہے کہ الطاف حسین ایک وطن کا غدار ہندؤں کے مفاد کی خاطر کام کرنے والا انسانیت کا بدترین قاتل ہے، یوں ایم کیو ایم نے کس طرح کراچی کو قتل وغارت کا اکھاڑا بنائے رکھا، کیسے وہ لوگوں کی کنپٹیوں پر بندوقیں رکھ کر ووٹ لیتے تھے۔
    دنیا جان چکی ہے کہ کیسے عالی شان فنڈز ذاتی مفادات کے اوپر استعمال ہوتے رہے ہیں، کیسے بھٹو کا مزار ایک عالیشان اعمارت اور سندھ کے سکول ہزاروں سال پرانے کھنڈر لگتے ہیں۔۔۔
    رینجرز نے جب سے کراچی میں ایم کیو ایم کے خلاف کریک ڈاؤن کیا ہے اور ایم کیو ایم دو حصوں میں بٹ گئی ہے، اور دونوں ایک دوسرے کیساتھ کیساتھ پی پی پی پر الزام تراشیاں کررہی تھی انکی پھوں پھاں ٹوٹ چکی تھی۔
    ساتھ ہی جیسا کہ پہلے کہا سوشل میڈیا کی وجہ سے کراچی کی عوام نے دیکھا کہ انکے پاس ایک کپتان ہے جس نے اس ملک کے سبھی لٹیروں کو ایک ہی آواز میں للکارا دیا ہے اور کسی سے بلاخوف و خطر عوام کو انکی غلامی سے چھٹکارا دلانے کے لیے کام کررہا ہے تو کراچی کی عوام کا رہتا سہتا خوف بھی ختم ہو گیا، ورنہ کس کی جرات ہے زرداردی کے بیٹے ، شہید بی بی کی نشانی کو لیاری میں ذلیل کرے؟ یہ طاقت کپتان نے دی ہے۔
    الغرض کراچی کی عوام نے ان استبدادی طاقتوں کو بری طرح فلاپ کر دیا ہے۔ عوام تبدیلی چاہتی ہے، اور وہ تبدیلی صرف کپتان لا سکتا ہے۔
    یہی وہ ایفیکٹ ہے جو پنجاب کے کئی علاقوں میں رہا جبکہ لاہور اور اسکے مضافات میں ابھی اسقدر جہالت ہے کہ اس کو بدلنے میں کچھ وقت لگے گا۔یہ وہ علاقے ہیں جہاں نون لیگ کے پودے بہت پرانے ہیں اور جو بیج ضمیروں کی خرید کر لگایا گیا تھا اس ابھی کٹنے میں وقت لگے گا۔
    پختونخواہ میں کوئی بھی دوسرا نتیجہ ہوتا، وہ میجرسرپرائز ہوتا، وہاں پر پی ٹی آئی کی فتح یقینی تھی کیونکہ پی ٹی آئی نے جو کام کیے، چاہے وہ سو فیصد نہیں تھے مگر جتنے بھی تھے باقی صوبوں سے بہتر تھے۔

    بلوچستان بھی ایک تبدیلی کا منتظر تھا اور وہاں کا رزلٹ بھی کوئی خاص سرپرائز نہیں تھا۔

    پنجاب میں بھی تبدیلی کی لہر دیکھی گئی اور پی ٹی آئی ایک بہت بڑی اور مضبوط پارٹی کی صورت میں سامنے آئی۔ پانامہ کیس اور اسکے بعد ہونے والے حالات کا بہت گہرا اثر تھا، ساتھ ایک اہم فیکٹر جس نے پی ٹی آئی کو کامیابی دلائی وہ جنوبی پنجاب کا صوبہ ہے۔
    لیکن نون لیگ ابھی بھی بہت سارے علاقوں میں بہت پاورفل ہے۔ وہاں تبدیلی لانے کے لیے ابھی پی ٹی آئی کو بہت محنت کی ضرورت ہو گی۔
    باقی رہی بات رونے والوں کی تو ان سے میرا ایک سوال ہے، جن علاقوں میں یہ لوگ کامیاب ہوئے ہیں کیا وہاں فارم 45 وقت پر مل گیا تھا؟ ان نتائج پر یہ لوگ خوش کیوں ہیں؟ پی پی پی کو تو خوش ہونا چاہیے کہ کچھ نہ بھی کر کے انکی سیٹوں میں 6 سیٹوں کا اضافہ ہوا ہے!
    حاصل کلام، الیکشن عوام کے جذبات کا اظہار تھے مگر الیکشن کمیشن نے ذلالت کی انتہا کر دی، یہی وجہ کافی ہونی چاہیے عمران جیسا لیڈر سامنے لانے کی!

    tumharey bas mein agar ho to bhool jao mujhey
    tumhein bhulaney mein shayid mujhey zamana lagey

  • #2
    thanx for sharing ab new sharing ho jaye.tabdeeli aa gayi hai ..


    Comment


    • Masood
      Masood commented
      Editing a comment
      Abhi nahin! Abhi rikawatein hain...

Unconfigured Ad Widget

Collapse

Unconfigured Ad Widget

Collapse

pegham Youtube Channel

Collapse

Working...
X